ایرانتازہ ترین

ایران نے اسرائیل پر داغے گئے میزائلوں کی تعداد بتانا کیوں بند کر دی؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے عسکری ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ حالیہ دنوں میں Iran نے اسرائیل پر حملوں کے دوران داغے جانے والے میزائلوں کی تعداد بتانا بند کر دی ہے اور اب صرف حملوں یا نشانہ بنائے گئے اہداف کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تبدیلی کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ ایران اب اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے بڑی تعداد میں میزائل داغنے کے بجائے حساس اور اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ حالیہ بیانات میں ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے بعض اہم فوجی اور انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایران نے بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کی حکمت عملی زیادہ منتخب اہداف کی جانب منتقل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسے اہداف میں فوجی اڈے، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور انٹیلی جنس تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی ایک وجہ میزائل ذخائر کا محتاط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگ میں ہر ملک اپنی عسکری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہتھیاروں کے استعمال میں احتیاط برتتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے اتحادی گروہوں کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق Hezbollah نے بھی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون کارروائیاں کی ہیں، جس سے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگ میں دفاعی نظام بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ Israel اور اس کے اتحادی میزائلوں کو روکنے کے لیے مہنگے دفاعی میزائل استعمال کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے جنگ کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو دونوں جانب ہتھیاروں کے ذخائر اور دفاعی صلاحیتوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے حالیہ حکمت عملی کو جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button