تازہ ترینیورپ امریکا

ٹرمپ–ایران تعلقات کے سات اہم موڑ: کشیدگی میں اضافہ، سفارتکاری اور دھمکیاں ساتھ ساتھ

واشنگٹن/تہران — امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عروج پر ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں فوجی آپشنز کی بات کی ہے، وہیں عمان میں جاری مذاکرات کے ذریعے سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ بات چیت میں ایران کا جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل، علاقائی مسلح گروہوں کی حمایت اور انسانی حقوق شامل ہوں، جبکہ تہران اصرار کر رہا ہے کہ گفتگو صرف جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کے حق تک محدود رہے۔

حالیہ برسوں میں ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے تعلقات کے چند اہم موڑ درج ذیل ہیں:

امریکا کا جوہری معاہدے سے انخلا (مئی 2018):
ٹرمپ نے 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکا کو الگ کر لیا، جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران نے جوہری سرگرمیوں کو محدود کیا تھا۔ ایران نے ہمیشہ جوہری ہتھیار بنانے کی تردید کی۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت (جنوری 2020):
ایران کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی عراق میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔ امریکا نے اسے دفاعِ نفس قرار دیا، جبکہ اقوامِ متحدہ کے ماہر نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کہا۔

اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کی امریکی کوشش (اگست 2020):
واشنگٹن نے ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں بحال کرانے کی کوشش کی، مگر سلامتی کونسل کے بیشتر ارکان نے اسے مسترد کر دیا۔

ٹرمپ کو قتل کرنے کی مبینہ سازش کا الزام (نومبر 2024):
امریکی حکام نے ایک ایرانی شہری پر ٹرمپ کے قتل کی سازش کا الزام عائد کیا۔ تہران نے اس دعوے کو اسرائیل اور بیرونی اپوزیشن کی “اشتعال انگیزی” قرار دیا۔

ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے (جون 2025):
امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایرانی جوہری مقامات کو نشانہ بنایا۔ اگلے ہی دن ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر میزائل داغے؛ جانی نقصان کی اطلاع نہیں آئی اور 12 روزہ کشیدگی ختم ہو گئی۔

عالمی پابندیوں کی واپسی (ستمبر 2025):
برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی کوششوں سے ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہوئیں، جنہیں چین اور روس روک نہ سکے۔

سفارتکاری کی نئی کوشش (فروری 2026):
عمان میں بات چیت کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے “اچھی شروعات” قرار دیا، مگر خبردار کیا کہ دباؤ اور دھمکیوں کے بغیر ہی مکالمہ ممکن ہے۔ اسی روز امریکا نے ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل تجارت سے جڑی نئی پابندیاں بھی عائد کر دیں۔

پس منظر اور آگے کا راستہ:
خطے میں امریکی بحری موجودگی بڑھ چکی ہے اور ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ نہ ہوا تو “برے نتائج” نکل سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا مذاکرات دائرہ کار پر سمجھوتے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں یا دباؤ کی سیاست کشیدگی کو نئی سطح پر لے جاتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button