
واشنگٹن/تل ابیب/تہران: مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان امریکی صدر Donald Trump اور اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کے درمیان تین گھنٹے طویل ملاقات ہوئی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر سفارتی راستے سے کوئی معاہدہ طے پا گیا تو یہ بہتر ہوگا، تاہم بصورتِ دیگر صورتحال “بہت خراب” بھی ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو ممکنہ ڈیل کے حق میں ہیں، تاہم تمام آپشنز بدستور زیر غور ہیں۔
علاقائی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دفاعی تیاریوں میں بھی تیزی آئی ہے اور حساس تنصیبات پر الرٹ کی سطح بڑھا دی گئی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی حکام نے مشرقِ وسطیٰ کی جانب ایک اور بحری جنگی بیڑا روانہ کرنے کا حکم دیا ہے، جس میں USS George H. W. Bush شامل ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق بحری بیڑا کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا جائے گا۔
مزید برآں، امریکی فضائیہ کے B-52 Stratofortress بمبار طیاروں کو فضائی ایندھن بردار طیاروں کے ہمراہ جنوبی سمت میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں بحرِ ہند میں واقع امریکی اڈے Diego Garcia پر تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن اور دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران کی اعلیٰ قیادت نے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی رہنما Ali Shamkhani نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ “آگ یورپ تک پھیل سکتی ہے”۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بعض اسرائیلی میڈیا اداروں اور شخصیات پر کشیدگی بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

ادھر ایران کے مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات کی اطلاعات ہیں جہاں مظاہرین نے ممکنہ حملے کے خلاف نعرے لگائے اور خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارت کاری اور عسکری تیاری دونوں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، جس سے خطے میں غیر یقینی فضا برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ چند دن انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، بصورتِ دیگر خطہ ایک نئی اور غیر متوقع صورتحال کی طرف بڑھ سکتا ہے۔



