امریکاتازہ ترین

افغان طالبان امریکا ایران جنگ میں کود پڑے

اگر ایران پر حملہ ہوا تو پڑوسی ملک کی مدد کریں گے – طالبان حکومت

کابل:(تازہ حالات رپورٹ ) افغانستان کی طالبان حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران پر امریکا کی جانب سے فوجی حملہ کیا گیا تو وہ تہران کی حمایت کرے گی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے اور خطے میں عسکری تیاریوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایران کے پشتو زبان کے ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران کو بیرونی حملے کا سامنا کرنا پڑا تو افغانستان اپنے ہمسایہ ملک کی مدد کو اخلاقی اور انسانی ذمہ داری سمجھے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ کابل براہِ راست امریکا کے ساتھ کسی فوجی محاذ آرائی میں شامل ہونے کا خواہاں نہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر ایران کے ساتھ “اخلاقی اور انسانی” سطح پر تعاون کیا جا سکتا ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کے حوالے سے تناؤ جاری ہے۔ واشنگٹن نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے، جبکہ ایران بھی آبنائے ہرمز سمیت مختلف مقامات پر عسکری مشقیں کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت کا یہ اعلان سفارتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ہمسایہ تعلقات کو مضبوط دکھانا اور خطے میں اپنی پوزیشن واضح کرنا ہے۔ افغانستان اور ایران کے درمیان سرحدی، تجارتی اور مہاجرین سے متعلق معاملات میں باہمی روابط موجود ہیں، جنہیں موجودہ صورتحال مزید اہم بنا سکتی ہے۔

ممکنہ اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کھلے تصادم میں بدلتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے، جن میں افغانستان بھی شامل ہے۔ تاہم طالبان حکومت کی جانب سے فی الحال کسی عملی فوجی شمولیت کا اشارہ نہیں دیا گیا، بلکہ بیان کو زیادہ تر سیاسی اور انسانی ہمدردی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

موجودہ صورتحال میں خطے کی نظریں امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل پر مرکوز ہیں، کیونکہ کسی بھی پیش رفت یا ناکامی کے اثرات ہمسایہ ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button