تازہ ترینفلسطین

ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ اجلاس: غزہ کے لیے 17 ارب ڈالر کے وعدے، حماس کی غیر مسلحی بنیادی شرط قرار

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قائم کردہ “بورڈ آف پیس” کے پہلے باضابطہ اجلاس میں غزہ کی ہنگامی امداد اور تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 17 ارب ڈالر کے وعدوں کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن میں منعقدہ اس اجلاس میں تقریباً 45 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق 10 ارب ڈالر امریکا فراہم کرے گا جبکہ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک مزید 7 ارب ڈالر کا اضافہ کریں گے۔ تاہم ماضی میں بھی غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے بڑے مالی وعدے کیے گئے تھے جن میں سے کئی عملی صورت اختیار نہ کر سکے، اس لیے اس بار بھی عملدرآمد پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تشکیل

اجلاس میں انڈونیشیا، مراکش، البانیا، کوسووو اور قازقستان نے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فورس مرحلہ وار اسرائیلی فوج کی جگہ لے گی، تاہم اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک مکمل انخلا نہیں کرے گا جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی۔

بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملادینوف نے بتایا کہ امریکا، مصر، قطر اور ترکی نے اسلحے کے خاتمے کے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا ہے جسے جلد غزہ کی مسلح جماعتوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

فلسطینی پولیس فورس کی تیاری

غزہ کی عبوری ٹیکنوکریٹک انتظامیہ (NCAG) نے نئی فلسطینی پولیس فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ منصوبے کے مطابق 60 روز میں پانچ ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے جنہیں مصر اور اردن میں تربیت دی جائے گی اور اسرائیل کی سکیورٹی کلیئرنس بھی درکار ہوگی۔ طویل المدتی ہدف 12 ہزار اہلکاروں کی فورس قائم کرنا ہے۔

تعمیرِ نو کا بڑا خاکہ

بورڈ کے حکام نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک وسیع منصوبہ پیش کیا جس میں ملبہ ہٹانے، سرنگوں کی بندش، جدید رہائشی منصوبے، اسپتال، اسکول، بندرگاہ اور ہوائی اڈے کی تعمیر شامل ہے۔ ابتدائی مرحلے میں رفح شہر میں ایک لاکھ مکانات تعمیر کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر چار لاکھ سے زائد گھروں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا ہے۔

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا کہ ایک خصوصی “غزہ ریکنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ فنڈ” قائم کیا گیا ہے جو عطیات کی شفاف نگرانی کرے گا۔ فیفا نے بھی 75 ملین ڈالر کھیلوں کے منصوبوں کے لیے دینے کا اعلان کیا ہے۔

حماس کی غیر مسلحی: مرکزی شرط

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ تعمیرِ نو کا عمل حماس کی مکمل غیر مسلحی سے مشروط ہوگا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے بھی زور دیا کہ حماس کے تمام ہتھیار، سرنگیں اور عسکری ڈھانچہ ختم کیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔

دوسری جانب قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت نے ایک ارب ڈالر سے زائد کی امدادی رقوم دینے کی تصدیق کی، جبکہ مصر اور ترکی نے دو ریاستی حل کی حمایت پر زور دیا۔

سوالات برقرار

اگرچہ 17 ارب ڈالر کے وعدے سفارتی کوششوں کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھے جا رہے ہیں، مگر غزہ میں سکیورٹی کی نازک صورتحال، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور سیاسی اختلافات کے باعث اس منصوبے کے عملی نفاذ پر اب بھی شکوک موجود ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button