
ریاض ((تازہ حالات رپورٹ) — مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی اور ایران کے حوالے سے پیدا ہونے والے نئے عالمی خدشات کے سائے میں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سرکردہ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے درمیان ریاض میں ایک انتہائی اہم اور طویل ملاقات ہوئی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق، یہ اعلیٰ سطحی سفارتی بیٹھک دارالحکومت ریاض کے تاریخی الیمامہ محل میں منعقد ہوئی۔ اگرچہ امریکی سینیٹر کے دورے کے دورانیے کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، تاہم اس ملاقات کو سفارتی اور صحافتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
ملاقات کے اہم پہلو اور شرکاء
اس نشست میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خطے میں امن و امان کے قیام اور مشترکہ دلچسپی کے امور بھی زیرِ بحث آئے۔
سعودی عرب کی جانب سے اس ملاقات میں اعلیٰ عسکری اور سفارتی قیادت نے شرکت کی، جن میں وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور قومی سلامتی کے مشیر موسٰی بن محمد العیبان شامل تھے، جو اس بات کا غماز ہے کہ ملاقات کا ایجنڈا انتہائی حساس نوعیت کا تھا۔
خطے کا دورہ اور سفارتی سرگرمیاں
واضح رہے کہ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم ان دنوں مشرق وسطیٰ کے ایک انتہائی اہم سفارتی مشن پر ہیں۔ سعودی عرب پہنچنے سے محض ایک روز قبل، انہوں نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے بھی ملاقات کی تھی جس میں دوطرفہ سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

اس سے قبل، رواں ہفتے کے آغاز میں اسرائیل کے دورے کے دوران امریکی سینیٹر نے تہران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ایران کو جوہری مذاکرات میں مزید ‘تاخیری حربے’ استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایران پر امریکی دباؤ اور جوہری مذاکرات کی تازہ صورتحال
یہ سفارتی سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں عروج پر ہیں جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کی ایما پر مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ایران کو مسلسل یہ پیغامات دیے جا رہے ہیں کہ وہ اپنے متنازع جوہری و میزائل پروگرام اور خطے میں اپنے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی پشت پناہی سے باز آئے۔
دوسری جانب، جنگ کے ان بادلوں کو چھٹانے کے لیے سفارتی محاذ پر بھی کوششیں جاری ہیں۔ سلطنت عمان کی ثالثی میں منگل کے روز جنیوا میں ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات کا ایک نیا دور بھی منعقد ہوا ہے، جو 6 فروری کو مسقط میں ہونے والی ابتدائی بات چیت کا ہی تسلسل تھا۔
تہران کا سخت مؤقف
ان تمام تر عالمی دباؤ اور فوجی خطرات کے باوجود تہران کا مؤقف انتہائی سخت اور واضح ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل دراصل ایران میں مداخلت اور ‘حکومت کی تبدیلی’ (Regime Change) کے لیے محض بہانے تراش رہے ہیں۔
تہران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی محدود یا وسیع فوجی حملے کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دے گا۔ تاہم، ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مغربی ممالک اس پر عائد کڑی اقتصادی پابندیاں اٹھا لیں، تو وہ اپنے جوہری پروگرام پر عائد پابندیوں کے حوالے سے لچک دکھانے اور تعاون کرنے کو تیار ہے۔
تجزیاتی نوٹ: موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک بار پھر ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ سینیٹر لنڈسے گراہم کا یہ دورہ دراصل خطے کے اہم امریکی اتحادیوں کو اعتماد میں لینے اور مستقبل کی کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کی کڑی معلوم ہوتا ہے۔



