
(تازہ حالات رپورٹ)
برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ غزہ کی پٹی میں ایک بڑے فوجی اڈے کی تعمیر پر غور کر رہی ہے، جہاں مستقبل میں قائم کی جانے والی بین الاقوامی استحکام فورس کو تعینات کیا جا سکے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ ایسے وقت میں زیرِ غور ہے جب جنگ کے بعد غزہ کے انتظام اور سیکیورٹی ڈھانچے سے متعلق مختلف عالمی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ مقام 350 ایکڑ سے زائد رقبے پر مشتمل ہوگا اور وہاں تقریباً پانچ ہزار اہلکاروں کی گنجائش رکھی جائے گی۔ منصوبہ یہ ہے کہ اس مقام کو ایک آپریشنل ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کیا جائے، جو ایک مجوزہ بین الاقوامی فریم ورک کے تحت کام کرے گا۔ اس ڈھانچے کو مبینہ طور پر "پیس کونسل” کے زیرِ نگرانی چلانے کی تجویز دی گئی ہے، جو جنگ کے بعد غزہ کے انتظامی امور کی نگرانی کرے گی۔
دستاویزات کے مطابق منصوبے میں مرحلہ وار تعمیر شامل ہے، جس کے تحت مضبوط حفاظتی دیواروں، بکتر بند نگرانی ٹاورز، زیرِ زمین بنکروں، اسلحہ ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور تربیتی فائرنگ رینج کی تنصیب کی تجویز دی گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ اڈا جنوبی غزہ کے نسبتاً کم آبادی والے علاقے میں تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چند بین الاقوامی تعمیراتی کمپنیوں نے، جنہیں تنازعات والے علاقوں میں کام کا تجربہ حاصل ہے، ابتدائی سطح پر سائٹ کا جائزہ بھی لیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں ممکنہ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت ایک استحکام فورس کے قیام پر بھی عالمی سطح پر بات چیت جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد کسی بھی سیکیورٹی بندوبست کے لیے وسیع بین الاقوامی اتفاقِ رائے اور علاقائی حمایت ضروری ہوگی، کیونکہ غزہ کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال نہایت حساس ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس نوعیت کا کوئی منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ نہ صرف خطے کی سیکیورٹی حرکیات پر اثر انداز ہوگا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور سفارتی تعلقات پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ فی الحال اس معاملے پر مختلف حلقوں کی نظریں ممکنہ سرکاری ردِعمل اور بین الاقوامی مشاورت پر مرکوز ہیں۔



