
مشرق وسطی میں اسرائیل کا نیا خفیہ پلان سامنے آ گیا
تازہ حالات خصوصی رپورٹ
اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک تازہ بیان میں مشرقِ وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے ایک نئے ’’سنی اتحاد‘‘ کا ذکر کیا ہے، جسے انہوں نے خطے میں توازنِ قوت کی نئی شکل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کی صورتحال کے بعد پہلی بار خطے میں ایک منظم اتحاد کی بات کھل کر سامنے آئی ہے، جو مختلف ممالک کو ایک مشترکہ وژن کے تحت قریب لا سکتا ہے۔
نیتن یاہو کے مطابق یہ مجوزہ اتحاد محض عسکری نوعیت کا نہیں بلکہ سیاسی، سکیورٹی اور سفارتی تعاون پر مبنی ایک وسیع تر ڈھانچہ ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس میں بھارت سمیت متعدد عرب ممالک، افریقی ریاستیں، بحیرۂ روم کے بعض ممالک جیسے یونان اور قبرص، اور ایشیا کے دیگر شراکت دار شامل ہو سکتے ہیں۔
’’مشترکہ چیلنجز، مشترکہ حکمتِ عملی‘‘
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد خطے میں موجود ’’انتہاپسند اور شدت پسند محوروں‘‘ کا مقابلہ کرنا ہے۔ ان کے بقول، مختلف ممالک ایک مشترکہ خطرے کو محسوس کر رہے ہیں اور اسی بنیاد پر ایک مربوط حکمتِ عملی تشکیل دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تعاون کے نتیجے میں اقتصادی روابط، دفاعی ہم آہنگی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں استحکام بڑھے گا۔
بدلتی علاقائی صف بندیاں
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ برسوں کے دوران تعلقات میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ بعض عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان سفارتی روابط میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایران کے کردار اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کے تناظر میں نئی صف بندیاں بھی ابھر رہی ہیں۔

تاہم ناقدین کے مطابق ایسے کسی اتحاد کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا شامل ممالک داخلی و خارجی اختلافات کو کس حد تک پسِ پشت ڈال سکتے ہیں۔
خطے کا مستقبل کس سمت؟
اگر یہ اتحاد عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی کے ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ مہینوں میں سفارتی سرگرمیوں، دوطرفہ ملاقاتوں اور دفاعی معاہدوں سے اس منصوبے کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔
فی الحال نیتن یاہو کا بیان خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے کہ آیا واقعی ایک نیا علاقائی بلاک تشکیل پا رہا ہے یا یہ محض سفارتی اشارہ ہے۔ آنے والا وقت ہی اس سوال کا واضح جواب دے گا۔



