ایرانتازہ ترین

روس نے امریکی جہازوں کو گرانے والے میزائل ایران کو دیدیے

ایران پر حملے کی صورت روس ایران کے ساتھ مل کر لڑے گا؟

(تازہ حالات رپورٹ )

دوست ہو تو روس جیسا ! روس نے ایران کو مشکل وقت میں مدد بھیجنا تیز کردی – برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق روس ایران کو جہازوں ڈرونز گرانے والے وربا نامی میزائل فراہم کررہا ہے – کندھے پر رکھ کر ان میزائلوں کو چلایا جاسکتا ہے اور یہ میزائل جدید AI سمارٹ ٹیکنالوجی کے حامل ہیں جو امریکی اسرائیلی جہازوں کے لیے تباہی کا باعث بن سکتے ہیں- گزشتہ سال جون کی لڑائی کے بعد روس نے ایران کو 673 ملین ڈالر کے عوض یہ میزائل فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا- اس کے علاوہ روس ایران کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہد بھی دستخط کرچکا ہے جس کا مطلب اگر ایران پر حملہ ہوا تو روس ایران کی مدد کرنے کے پابند ہوگا – اسی معاہدے کے بعد روسی اسلحے کے جہازوں کی ایران آمد کا سلسلہ تیز ہوا ہے- امریکا اسرائیل دونوں پریشان ہیں کہ روس اور چین آخر ایران کو کیوں بچانا چاہتے ہیں – روس چین جانتا ہے اگر آج ایران گر گیا تو پھر روس چین اگلا نشانہ ہوں گے اور پھر دنیا میں کوئی روس یا چین کے ساتھ دوستی پر بھروسہ نہیں کرے گا

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے روس کے ساتھ تقریباً 50 کروڑ یورو (تقریباً 49 کروڑ 50 لاکھ یورو) کا خفیہ اسلحہ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت تہران جدید کندھے سے داغے جانے والے فضائی دفاعی میزائل سسٹمز حاصل کرے گا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اقدام گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جھڑپوں کے بعد متاثر ہونے والے ایرانی فضائی دفاعی نظام کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق دسمبر میں ماسکو میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت روس ایران کو تین سال کے عرصے میں 500 "وربا” (Verba) لانچر یونٹس اور 2,500 جدید 9M336 میزائل فراہم کرے گا۔ یہ سسٹم روس کے جدید ترین کندھے سے فائر کیے جانے والے انفرا ریڈ گائیڈڈ دفاعی ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے، جو کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کیا ہے "وربا” سسٹم؟

ماہرین کے مطابق "وربا” سسٹم کو چھوٹی موبائل ٹیمیں بھی استعمال کر سکتی ہیں، جس سے کسی بڑے ریڈار نیٹ ورک پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح دفاعی پوزیشنیں منتشر انداز میں قائم کی جا سکتی ہیں، جو روایتی فضائی حملوں کے مقابلے میں نسبتاً کمزور اہداف بنتی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بڑے روسی فضائی دفاعی نظام جیسے S-300 یا S-400 کے برعکس، ور با سسٹم کو کم تربیت اور کم تکنیکی انضمام کے ساتھ جلد تعینات کیا جا سکتا ہے۔

ترسیل کا شیڈول اور دیگر تفصیلات

اخبار کے مطابق تقریباً 495 ملین یورو کے اس معاہدے کے تحت ترسیل 2027 سے 2029 کے درمیان تین مرحلوں میں مکمل کی جائے گی، تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ محدود تعداد میں سسٹمز کی ابتدائی فراہمی پہلے بھی ہو چکی ہو سکتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق 9M336 میزائل کی فی یونٹ قیمت تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار یورو جبکہ ہر لانچر کی قیمت تقریباً 40 ہزار یورو بتائی گئی ہے۔ اس پیکج میں 500 جدید نائٹ وژن ڈیوائسز بھی شامل ہیں، جو اندھیرے میں اہداف کی نشاندہی میں مدد دیتی ہیں۔

پس منظر: جنگ اور علاقائی کشیدگی

رپورٹ کے مطابق ایران نے جولائی میں باضابطہ طور پر ان سسٹمز کی درخواست دی تھی، جو اسرائیل کے ساتھ محدود مدت کی جھڑپوں کے بعد سامنے آئی۔ اسی دوران خطے میں امریکی افواج کی موجودگی بھی زیرِ بحث رہی۔

ایک سابق امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ماسکو اس معاہدے کو تہران کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے موقع کے طور پر دیکھ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک مختلف عالمی تنازعات میں مغرب کے خلاف صف بندی میں قریب آئے ہیں۔-

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button