امریکاتازہ ترین

امریکا نے اردن اور سعودی عرب میں لڑاکا طیاروں کی تعداد بڑھا دی

(تازہ حالات رپورٹ )

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فضائی موجودگی میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اردن اور سعودی عرب کے فوجی اڈوں پر اضافی طیارے تعینات کر دیے ہیں۔ یہ معلومات سیٹلائٹ ٹریکنگ تجزیے اور دفاعی ماہرین کی آراء کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب یونیورسٹی کے زیرِ انتظام ایک فضائی نگرانی ٹریکر کے اندازے کے مطابق اردن کے موافق السلتی ایئر بیس پر اس وقت کم از کم 66 لڑاکا طیارے موجود ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے والے سابق دفاعی حکام اور ایک فضائیہ کے ماہر کے مطابق ان میں 18 جدید ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ اسی اڈے پر 17 ایف-15 اور 8 اے-10 طیاروں کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر بھی اضافی فضائی سرگرمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہاں ای-3 ائیر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) طیارے موجود ہیں جو فضائی نگرانی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی-130 اور سی-5 جیسے بڑے ٹرانسپورٹ طیاروں کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے، جو لاجسٹک سپورٹ اور فوجی سازوسامان کی منتقلی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکا اپنی فورس پوزیشننگ کو مضبوط بنا رہا ہے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے ان تعیناتیوں کے مقصد پر باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی طاقت کا یہ اضافہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے، اتحادی ممالک کو یقین دہانی کرانے اور خطے میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ صورتحال پر علاقائی اور عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button