ایرانتازہ ترین

ایٹم بم سے بھی بڑا خطرہ! ایران کا نیا اور خطرناک ترین ہتھیار تیار

عالمی نیوز ڈیسک — مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک اور تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس اسٹیبلشمنٹ اور عسکری حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے لیے اب ایسے جدید بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے جو ‘کیمیائی اور حیاتیاتی’ (Chemical and Biological) وار ہیڈز لے جانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسرائیلی عسکری مشیر کا انتباہ اور واشنگٹن سے رابطے اسرائیلی حکومت کے دفاعی مشیر اور فوج (IDF) کے سابق بریگیڈیئر جنرل، ‘امیر اویوی’ (Amir Avivi) نے امریکی نشریاتی ادارے ‘واشنگٹن فری بیکن’ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس سنگین خطرے سے پردہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی دفاعی حلقوں میں اس وقت ایران کے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے حوالے سے گہری تشویش پائی جاتی ہے، اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ایران پر کسی بھی ممکنہ امریکی یا اسرائیلی حملے کی صورت میں سب سے پہلے ان میزائل صلاحیتوں کو تباہ (Deal with) کرنا لازمی ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور انہیں ایران کے اندر ممکنہ اہداف (Targets) کی فہرست بھی فراہم کر رہا ہے، جن میں کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات سرفہرست ہیں۔

عوام کے لیے ‘اجتماعی خوف’ کا خطرہ اور محدود دفاع کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ممکنہ نتائج پر بات کرتے ہوئے، اسرائیلی مشیر نے خبردار کیا کہ یہ ایسے ہتھیار ہیں جو معاشرے میں ‘اجتماعی خوف و ہراس’ (Mass Hysteria) پھیلا سکتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ایران نے بڑے پیمانے پر کیمیائی مرکبات کا استعمال کیا، تو عام شہریوں کے لیے بنائے گئے روایتی بم شیلٹرز (Bomb Shelters) بھی انہیں مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکیں گے۔

امریکی فوجی اکیڈمی ‘ویسٹ پوائنٹ’ کے انسدادِ دہشت گردی مرکز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت کو دہائیوں سے یہ علم ہے کہ ایران ایسے کیمیائی ایجنٹس کی ریسرچ کر رہا ہے جو براہ راست انسانی اعصابی نظام (Central Nervous System) کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کیا ایران یہ ہتھیار استعمال کر چکا ہے؟ یہ دعوے صرف بین الاقوامی سرحدوں تک محدود نہیں ہیں۔ ‘ایران انٹرنیشنل’ کی رپورٹس کے مطابق، ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ ریاست کو لاحق کسی بھی غیر معمولی یا وجودی خطرے (Existential Threat) کی صورت میں غیر روایتی ہتھیاروں کا استعمال جائز ہے۔

اس کے علاوہ، رواں سال جنوری کے اواخر میں ایران کے اندر ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بھی ایک تشویشناک صورتحال سامنے آئی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق، ایرانی سیکیورٹی فورسز نے بعض شہروں میں مظاہرین کو کچلنے کے لیے مبینہ طور پر کچھ ‘نامعلوم کیمیائی مادوں’ کا استعمال کیا تھا، جس سے لوگوں کو سانس لینے میں شدید دشواری، اچانک کمزوری اور حرکت کرنے میں ناکامی جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے نیا چیلنج (پس منظر) ایران کی جانب سے رات دن نئے اور جدید بیلسٹک میزائلوں کی تیاری خطے میں طاقت کے توازن کو تیزی سے بدل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایران اب جو میزائل تیار کر رہا ہے وہ حالیہ 12 روزہ جنگ میں استعمال ہونے والے میزائلوں سے کہیں زیادہ جدید، تیز اور مہلک ہیں۔ اگر ان میزائلوں کو کیمیائی اور حیاتیاتی وار ہیڈز سے لیس کر دیا گیا، تو یہ مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ عالمی امن کے لیے ایک ایسا خطرہ بن جائیں گے جسے نظر انداز کرنا امریکہ اور اسرائیل کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button