اسرائیلتازہ ترین

‘تاریخ دہرائی جائے گی’: نیتن یاہو کا ایران کے خلاف ‘ماسٹر پلان’ بے نقاب

(تازہ حالات رپورٹ )مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ اور کشیدہ سیاست میں بیانات اور تاریخی حوالوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ حال ہی میں، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے خلاف اپنے عزائم کو ایک بار پھر واضح کرتے ہوئے اسے کمزور کرنے کے ایک نئے منصوبے کا اشارہ دیا ہے۔ دلچسپ اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ نیتن یاہو نے اس بار قدیم یہودی تاریخ اور ‘میگیلا’ (Megillah) کا حوالہ دیتے ہوئے تہران کو ایک سخت پیغام بھیجا ہے۔

میگیلا کی روح اور ایران اسرائیل کشیدگی (تاریخی پس منظر) ‘میگیلا’ (یا کتابِ آستر) دراصل وہ قدیم یہودی صحیفہ ہے جو ‘پورم’ (Purim) کے تہوار پر پڑھا جاتا ہے۔ اس کی کہانی قدیم فارس (جو آج کا ایران ہے) کے گرد گھومتی ہے، جہاں یہودیوں کو ایک بڑی سازش اور تباہی سے بچایا گیا تھا اور ان کے دشمنوں کو شکست ہوئی تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کو اس قدیم واقعے سے تشبیہ دینے کا مقصد انتہائی واضح ہے۔ وہ اپنی قوم اور دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جس طرح ماضی میں یہودیوں نے فارس کے خطرے کو ناکام بنایا تھا، اسی طرح آج کا اسرائیل بھی جدید ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اس کے جوہری پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔

اسرائیل کا اصل منصوبہ کیا ہے؟ (تجزیاتی جائزہ) دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، نیتن یاہو کا یہ بیان محض ایک تاریخی حوالہ نہیں ہے بلکہ ایک باقاعدہ ‘اسٹریٹجک شفٹ’ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیل ایران کو اندرونی اور بیرونی، دونوں محاذوں پر کمزور کرنے کی حکمت عملی پر تیزی سے عمل پیرا ہے:

  1. اقتصادی تنہائی: عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ کے ذریعے تہران پر اقتصادی پابندیوں کے شکنجے کو مزید سخت کرنا۔
  2. علاقائی محاذ: مشرق وسطیٰ میں ایران کی حمایت یافتہ پراکسیز (مسلح گروہوں) کی سپلائی لائنز کو کاٹنا اور ان کے خلاف پیشگی کارروائیاں کرنا۔
  3. خفیہ آپریشنز: ایران کی اہم جوہری، فوجی اور اقتصادی تنصیبات (جیسا کہ تیل اور بجلی کے مراکز) پر سائبر حملے اور انٹیلی جنس آپریشنز جاری رکھنا۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے اس مؤقف نے خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ حالیہ بیان دراصل ایک نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور اپنے اتحادیوں کو یہ باور کرانا ہے کہ تل ابیب تہران کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button