امریکاتازہ ترین

ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دوں گا! ڈونلڈ ٹرمپ کا دو ٹوک اور خطرناک اعلان

(تازہ حالات رپورٹ )
“ٹرمپ ایران دہشت گردی کا نمبر ون سپانسر ہے۔ ہم نے ان کے نیوکلیئر پروگرام کو مکمل طور پر تباہ (obliterated) کر دیا تھا۔ ہم نے انہیں ختم کر دیا تھا۔ لیکن اب وہ دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔ وہ لمبی رینج کے میزائل بنا رہے ہیں جو جلد امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
میں نے ایران کو واضح کر دیا ہے: نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھ سکتے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ میں کبھی اجازت نہیں دوں گا کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد سپانسر نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرے۔
ہم ان کے ساتھ مذاکرات میں ہیں۔ وہ ڈیل چاہتے ہیں۔ لیکن انہوں نے وہ خفیہ الفاظ نہیں کہے جو ہمیں چاہییں: ‘ہم کبھی نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائیں گے۔’

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جون میں ہونے والی مشترکہ امریکی۔اسرائیلی کارروائی، جسے انہوں نے "آپریشن مڈنائٹ ہیمر” قرار دیا، ایران کے جوہری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانے میں کامیاب رہی۔ ان کے بقول اس آپریشن نے ایران کے جوہری پروگرام کو "تقریباً مٹا دیا”۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، لیکن واشنگٹن کو اب تک تہران کی جانب سے یہ واضح یقین دہانی نہیں ملی کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "میری خواہش ہے کہ یہ مسئلہ سفارتی طریقے سے حل ہو، لیکن ایک بات یقینی ہے، میں دنیا کے سب سے بڑے دہشت گردی کے سرپرست کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دوں گا۔”

ٹرمپ نے ایران پر خطے میں بدامنی پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت اور اس کے اتحادی گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی اور عدم استحکام کو فروغ دیتے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ بھی اسی پالیسی کے تحت کیا تھا۔

ایران کے اندرونی حالات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایرانی عوام کو آزادی اور بہتر مستقبل کا حق حاصل ہے۔

خطاب کے دیگر حصوں میں صدر ٹرمپ نے داخلی پالیسیوں، معاشی اقدامات اور حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی ذکر کیا، جبکہ ایران سے متعلق گفتگو تقریر کے آخری حصے میں سامنے آئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ عسکری تیاریوں کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔

فی الحال واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم آئندہ چند ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا دونوں ممالک سفارتی راستہ اختیار کرتے ہیں یا صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button