امریکاتازہ ترین

امریکی آپریشن “ایپک فیوری” عروج پر، ایران کے ہزاروں عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی آپریشن “ایپک فیوری” اپنے اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اس آپریشن کے دوران گزشتہ چند دنوں میں ایران کے سینکڑوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے ایرانی فضائی دفاعی نظام اور میزائل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ آپریشن 100 گھنٹوں سے زیادہ وقت تک جاری رہا، جس میں تقریباً 2 ہزار اہداف پر 2 ہزار سے زائد درست نشانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایران کے بیلسٹک میزائل لانچرز، ڈرون نظام اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

جنرل کوپر کے مطابق آپریشن کے ابتدائی 24 گھنٹے شدت کے لحاظ سے 2003 میں عراق کے خلاف شروع کیے گئے مشہور “شاک اینڈ او” حملوں سے بھی بڑے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کارروائیوں میں 200 سے زائد لڑاکا طیارے اور اسٹریٹجک بمبار طیارے شامل تھے، جن میں B-2، B-1 اور B-52 بمبار بھی شامل ہیں۔ ان طیاروں نے ایران کے اندر گہرائی میں واقع میزائل مراکز اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

امریکی بحریہ نے بھی اس کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔ حکام کے مطابق بحری حملوں کے دوران ایران کے 17 جنگی بحری جہاز تباہ کیے گئے، جن میں ایک آبدوز بھی شامل بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی جواب میں بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ امریکی ذرائع کے مطابق ایران نے اب تک 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور تقریباً 2 ہزار ڈرون مختلف اہداف کی جانب داغے ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی ایران کے متحرک میزائل لانچرز اور دیگر باقی ماندہ عسکری پلیٹ فارمز کو تلاش کر کے نشانہ بنا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس آپریشن میں جدید ہتھیاروں کا بھی پہلی بار عملی استعمال کیا گیا، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے PrSM میزائل اور LUCAS بغیر پائلٹ طیارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی بحریہ کے دو کیریئر اسٹرائیک گروپس ایران کے ساحلی علاقوں کے قریب تعینات ہیں، جو سمندری محاصرہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی و اسرائیلی فوجی آپریشن میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی، 200 لڑاکا طیارے اور دو طیارہ بردار بحری بیڑے شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ حالیہ دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کی سب سے بڑی تعیناتیوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے ابتدائی 100 گھنٹوں سے کم وقت میں ایران کے 2000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور 2000 سے زائد ہتھیار استعمال کیے گئے۔ ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، بیلسٹک میزائل، لانچنگ پلیٹ فارمز اور ڈرون صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

امریکی بمبار طیاروں B-2، B-1 اور B-52 نے ایران کے اندر گہرائی میں موجود میزائل مراکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ بحری کارروائیوں میں ایران کے 17 جنگی بحری جہاز تباہ کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ آپریشن زمین، سمندر، فضا اور سائبر محاذوں پر مسلسل جاری ہے اور ایران کی جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت بتدریج کم ہو رہی ہے، جبکہ امریکی فوجی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دفاعی مبصرین کے مطابق اس وسیع فوجی کارروائی میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی شامل ہیں، جبکہ اس آپریشن کے اختتام کے بارے میں ابھی کوئی حتمی وقت نہیں بتایا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ کو ایک غیر معمولی فوجی بحران کی طرف لے جا سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button