ایرانتازہ ترین

ایران کے ڈرون حملوں سے آبنائے ہرمز میں عالمی تجارت مہینوں تک متاثر ہونے کا خدشہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )دفاعی اور انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو ایران کے ڈرون اور میزائل حملے آبنائے ہرمز میں عالمی بحری آمدورفت کو طویل عرصے تک متاثر کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اہم بحری گزرگاہ دنیا کی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی حساس ہے، جہاں کسی بھی قسم کی فوجی سرگرمی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس ڈرون تیار کرنے کی بڑی صنعتی صلاحیت موجود ہے اور اندازہ ہے کہ وہ ہر ماہ تقریباً 10 ہزار ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر تنازع طویل ہوا تو ایران مسلسل ڈرون حملوں کے ذریعے خطے میں دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے خلیجی ممالک اور خطے میں موجود امریکی تنصیبات کی جانب سینکڑوں میزائل اور ایک ہزار سے زائد ڈرون داغے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے زیادہ تر کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا، تاہم بعض حملوں کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں، بنیادی ڈھانچے اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت

آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کی تیل اور گیس کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہاں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے یا بحری راستے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کے علاوہ سمندری بارودی سرنگیں (Sea Mines) بھی اس علاقے میں بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو جہازوں کی نقل و حرکت محدود ہو سکتی ہے اور عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

میزائل ذخائر پر سوال

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل ذخائر کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ ایران طویل عرصے تک اسی شدت سے میزائل حملے جاری رکھ سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم ڈرون ٹیکنالوجی نسبتاً کم لاگت اور تیزی سے تیار ہونے والی ہونے کی وجہ سے ایران کے لیے ایک مؤثر ہتھیار سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور سمندری تجارت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے، اسی لیے عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button