امریکاتازہ ترین

امریکی B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے برطانوی اڈوں پر تعینات کیے جانے کا امکان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ کے جدید B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے جلد برطانیہ کے فوجی اڈوں پر تعینات کیے جا سکتے ہیں تاکہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم میں حصہ لیا جا سکے۔

برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کے مطابق مغربی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ یہ بمبار طیارے آئندہ چند دنوں میں ڈیگو گارشیا (Diego Garcia) اور RAF فیئر فورڈ (RAF Fairford) جیسے اہم فوجی اڈوں پر پہنچ سکتے ہیں۔ ان اڈوں کو مبینہ طور پر اس ممکنہ تعیناتی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے قبل برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے امریکی افواج کو قبرص میں واقع برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال کی اجازت بھی دی ہے۔ برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اجازت خطے میں اتحادی ممالک کے دفاع کے لیے ایک محدود اور مخصوص مقصد کے تحت دی گئی ہے۔

قبرص کے اڈے بھی توجہ کا مرکز

اس اجازت کے بعد قبرص میں واقع برطانوی فضائی اڈے RAF اکروتیری کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں اسی اڈے کے قریب ایک بڑا دھماکہ بھی رپورٹ ہوا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر B-2 اسٹیلتھ بمبار واقعی خطے کے قریب تعینات کیے جاتے ہیں تو یہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں ایک اہم اسٹریٹجک قدم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ طیارے انتہائی جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

ماہرین کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ایسے میں بڑی عسکری قوتوں کی تعیناتی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں فوجی سرگرمیاں مزید تیز ہو سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر بھی نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button