
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
ایک نئی دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملوں سے صرف ایک دن پہلے اہم صنعتی اور عسکری معدنیات کی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے کان کنی کی کمپنیوں سے مدد طلب کی تھی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے دفاعی صنعت سے وابستہ کمپنیوں، جامعات اور دیگر سپلائرز کے اتحاد ڈیفنس انڈسٹریل بیس کولیشن (DIBC) کو خط لکھ کر 13 اہم اسٹریٹجک معدنیات کی فراہمی بڑھانے کے منصوبے طلب کیے۔ یہ معدنیات جدید ہتھیاروں، سیمی کنڈکٹرز اور دفاعی ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتی ہیں۔
دستاویز کے مطابق پینٹاگون نے کمپنیوں سے کہا کہ وہ نکل، گریفائٹ، ریئر ارتھ دھاتوں اور دیگر اہم معدنیات کی کان کنی، پروسیسنگ یا ری سائیکلنگ سے متعلق منصوبوں کی تجاویز 20 مارچ تک جمع کرائیں۔ ماہرین کے مطابق یہ معدنیات جدید جنگی ٹیکنالوجی، میزائل سسٹمز، ڈرونز اور الیکٹرانک آلات کی تیاری میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ درخواست ایسے وقت سامنے آئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا آغاز کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن کو بعض اہم جنگی مواد تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ جدید دفاعی صنعت بڑی حد تک مخصوص معدنیات پر انحصار کرتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر ریئر ارتھ دھاتوں اور اسٹریٹجک معدنیات کی سپلائی چین پہلے ہی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے میں امریکہ کی جانب سے مقامی پیداوار بڑھانے کی کوشش اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ طویل المدتی عسکری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
ابھی تک وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور ڈی آئی بی سی کی جانب سے اس دستاویز پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید جنگوں میں صرف فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ صنعتی اور معدنی وسائل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔



