
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
روس نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھاتے ہوئے عرب ممالک کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب ایران کو اشتعال دلا کر خلیجی ممالک میں اہداف پر حملوں کی طرف دھکیل رہے ہیں تاکہ تنازع کا دائرہ وسیع ہو سکے۔
روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں نے ایران کو خطے میں جوابی حملوں پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں بعض عرب ممالک میں انسانی اور مالی نقصان بھی ہوا۔ روس کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد عرب ریاستوں کو ایسی جنگ میں شامل کرنا ہے جو دراصل دوسرے فریقوں کے مفادات کے لیے لڑی جا رہی ہے۔
خلیجی ممالک پر حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے آغاز کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس دوران ایران کی طرف سے ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن کا رخ بعض خلیجی ممالک کی جانب بھی بتایا جا رہا ہے، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

عرب رہنماؤں سے رابطے
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے حالیہ دنوں میں خلیجی خطے کے کئی عرب رہنماؤں سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ روسی حکام کے مطابق ماسکو نے پیشکش کی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے خطے کے ممالک کے خدشات تہران تک پہنچانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کرنا چاہتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے جس سے ہمارے تمام دوست خلیجی ممالک میں تشویش پیدا ہو گئی ہے، اور اب کوشش کی جا رہی ہے کہ انہیں بھی اس جنگ میں شامل کیا جائے۔



