امریکاتازہ ترین

امریکہ کی چین سے بڑی درخواست: روسی تیل کی خریداری کم، امریکی توانائی زیادہ خریدنے کی تجویز

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )واشنگٹن/بیجنگ: امریکہ چین کے ساتھ اپنی توانائی اور تجارتی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی حکام بیجنگ سے مطالبہ کرنے پر غور کر رہے ہیں کہ وہ روس سے تیل کی خریداری کم کرے اور اس کے بجائے امریکہ سے زیادہ تیل اور گیس خریدے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اس معاملے کو چین کے ساتھ آئندہ ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں متوقع ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان آئندہ چند ہفتوں میں ایک اہم سربراہی ملاقات کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی حکام اس تجویز کو وسیع تر اقتصادی حکمت عملی کے حصے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس کا مقصد نہ صرف امریکی توانائی کی برآمدات کو بڑھانا ہے بلکہ روس کی توانائی آمدنی کو بھی محدود کرنا ہے، جسے واشنگٹن اپنی خارجہ پالیسی کے اہم اہداف میں شامل سمجھتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس معاملے پر ابتدائی بات چیت مارچ کے وسط میں پیرس میں متوقع ہے جہاں امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اپنے چینی ہم منصب نائب وزیر اعظم ہی لیفینگ سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں ممکنہ طور پر ٹرمپ اور شی جن پنگ کی آئندہ سربراہی ملاقات کے لیے اقتصادی ایجنڈا اور تعاون کے فریم ورک کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق چین اس وقت دنیا کے سب سے بڑے توانائی درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور روسی تیل کی بڑی مقدار خریدتا ہے۔ مغربی پابندیوں کے بعد روس نے ایشیائی منڈیوں، خصوصاً چین اور بھارت، کی طرف زیادہ توجہ دی ہے۔

دوسری جانب امریکہ گزشتہ چند برسوں میں تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر چکا ہے اور وہ عالمی توانائی منڈی میں اپنی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر چین واقعی روسی تیل کی خریداری کم کر کے امریکی توانائی کی طرف جھکتا ہے تو اس سے عالمی توانائی کی تجارت اور جغرافیائی سیاست دونوں پر اہم اثرات پڑ سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ معاملہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ چین اپنی توانائی کی پالیسی میں عموماً اقتصادی مفادات اور سپلائی کی دستیابی کو ترجیح دیتا ہے۔

مبصرین کے مطابق آئندہ ٹرمپ-شی ملاقات نہ صرف امریکہ اور چین کے تعلقات بلکہ عالمی تجارت، توانائی اور جغرافیائی سیاست کے مستقبل کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

عالمی سیاست اور معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات (تجزیہ) عالمی امور کے ماہرین کے نزدیک امریکا کی جانب سے یہ تجویز محض ایک تجارتی لین دین نہیں، بلکہ ایک گہری جغرافیائی و سیاسی (Geopolitical) چال ہے۔ اس کے چند اہم پہلو یہ ہیں:

  • امریکی توانائی کے شعبے کا فروغ: اس معاہدے کی صورت میں امریکا عالمی منڈی میں اپنی تیل اور گیس کی برآمدات کو نہ صرف بڑھا سکے گا بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین پر اپنا اثر و رسوخ بھی مضبوط کرے گا۔
  • بیجنگ کے لیے مشکل فیصلہ: چین کے لیے یہ ایک انتہائی مشکل تجارتی اور سفارتی فیصلہ ہوگا۔ ایک طرف امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کا دباؤ ہے اور دوسری جانب اپنے اہم ترین تزویراتی اتحادی (روس) کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کا چیلنج۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بیجنگ اس امریکی دباؤ کے سامنے لچک دکھاتے ہوئے اپنی توانائی کی پالیسی میں تبدیلی لائے گا، یا صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں اس اہم معاملے پر کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے گا۔ یہ فیصلہ آنے والے مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، تیل کی عالمی قیمتوں اور عالمی معیشت کا نیا رخ طے کرے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button