ایرانتازہ ترینمشرق وسطی

غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں جانی نقصان میں اضافہ، اسرائیل کے اندر سیاسی کشمکش بھی تیز

غزہ میں آج ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں جانی نقصان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ عرب میڈیا اور مقامی طبی ذرائع کے مطابق مختلف حملوں اور بمباری کے واقعات میں کم از کم 21 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق صرف ایک دن میں 18 فلسطینی اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہوئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ طبی عملے کے مطابق محدود وسائل کے باوجود زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، تاہم صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی سرحد کے قریب نام نہاد ییلو لائن کے نزدیک معمول کی گشت کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں ایک اسرائیلی فوجی افسر زخمی ہوا۔ فوج کے مطابق یہ فائرنگ مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی جانب سے کی گئی، جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔

اسی دوران ایک اہم انسانی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ غزہ کے شہری مصر سے واپس غزہ پہنچ گئے ہیں۔ واپس آنے والوں نے واضح کیا کہ شدید بمباری اور مشکلات کے باوجود وہ اپنا علاقہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ایک شہری نے کہا، “ہم غزہ چھوڑ کر نہیں جائیں گے، یہ ہماری زمین ہے۔”

سیاسی محاذ پر اسرائیل کے اندر بھی کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ قومی سیاست میں وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی حمایت ترک کرے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی عدالت نے وزیر اعظم کو ہدایت دی ہے کہ متنازع اور سخت گیر وزیر ایتامار بن گویر کو عہدے سے ہٹانے کے عدالتی حکم پر عمل کیا جائے، جس سے حکومتی اتحاد میں مزید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

ادھر بن گویر نے اپنے سخت بیان میں کہا ہے کہ اگر حماس اسلحہ نہیں ڈالتی تو اسرائیل پوری قوت سے کارروائی کرے گا۔ مبصرین کے مطابق ایسے بیانات زمینی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

عالمی سطح پر امریکا کی حمایت بھی جاری ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے لیے مزید 4 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق جنگ کے بعد سے اب تک امریکا اسرائیل کو 20 سے 40 ارب ڈالر کے درمیان مالی و عسکری مدد فراہم کر چکا ہے۔

مجموعی طور پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں بڑھتا ہوا جانی نقصان، انسانی بحران اور اسرائیل کے اندر سیاسی عدم استحکام ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔ اگر فوری جنگ بندی اور سنجیدہ سفارتی کوششیں نہ ہوئیں تو حالات مزید بگڑنے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button