
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی کانگریس کے تقریباً 30 ڈیموکریٹ ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فوج کے اندر ایران سے ممکنہ جنگ کے حوالے سے استعمال ہونے والی بعض اصطلاحات اور بیانیے کی تحقیقات کی جائیں۔ ارکانِ کانگریس کے مطابق کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوجی حلقوں میں ایران سے ممکنہ تصادم کو بعض اوقات “بائبل سے جڑے مذہبی یا نظریاتی الفاظ” کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے، جس پر وضاحت ضروری ہے۔

ڈیموکریٹ قانون سازوں نے امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کو ایک خط میں کہا کہ فوجی پالیسی اور حکمتِ عملی مکمل طور پر پیشہ ورانہ اور غیر جانبدار ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی بھی سطح پر مذہبی یا نظریاتی حوالوں کو جنگی منصوبہ بندی یا بیانیے میں شامل کیا جا رہا ہے تو اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

ارکانِ کانگریس نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ایسے بیانات یا اصطلاحات امریکا کے بین الاقوامی تعلقات اور خطے میں سفارتی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کو اپنے اتحادیوں اور عالمی برادری کے سامنے ایک ذمہ دار اور غیر جانبدار طاقت کے طور پر پیش ہونا چاہیے۔
دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوج ایک منظم ادارہ ہے جہاں پالیسی سازی عام طور پر سخت ضابطوں کے تحت ہوتی ہے۔ تاہم کانگریس کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اس بات کی علامت ہیں کہ واشنگٹن میں ایران سے متعلق پالیسی اور ممکنہ فوجی اقدامات پر سیاسی بحث تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور ایران سے متعلق سفارتی مذاکرات کے ساتھ ساتھ امریکی داخلی سیاست میں بھی اس معاملے پر اختلافات واضح ہو رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں کانگریس اور پینٹاگون کے درمیان اس معاملے پر مزید وضاحت سامنے آ سکتی ہے، جو امریکا کی ایران پالیسی کے بارے میں اہم اشارے دے گی۔



