ایرانتازہ ترین

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، ایک ہفتے میں تقریباً 10 بحری جہاز حملوں کا نشانہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران۔امریکہ۔اسرائیل کشیدگی کے اثرات اب عالمی بحری تجارت تک پہنچنے لگے ہیں۔ بین الاقوامی تجزیاتی اداروں کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب یا اس کے اندر کم از کم 10 تجارتی جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں، جس کے باعث اس اہم سمندری راستے میں جہازوں کی آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں اسٹریٹجک سمندری گزرگاہ پر دباؤ بڑھانا شروع کیا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔

ایک ہفتے میں متعدد حملے

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران کم از کم 9 جہازوں پر حملوں کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں سات افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق 2 مارچ کو Skylight، MKD Vyom اور Stena Imperative نامی جہازوں پر حملوں میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا، جبکہ اسی دن Hercules Star بھی نشانہ بنا۔
3 سے 5 مارچ کے درمیان مزید چار جہاز — Libra Trader، Gold Oak، Safeen Prestige اور Sonangol Namibe — حملوں کی زد میں آئے۔

6 مارچ کو Mussafah 2 نامی جہاز پر حملے میں مزید چار افراد ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں انڈونیشیا نے بتایا کہ اس جہاز کے ڈوبنے کے واقعے میں اس کے تین ملاح لاپتہ اور ایک زخمی ہوا جبکہ دیگر چار افراد کو بچا لیا گیا۔

بحری تجارت تقریباً رک گئی

سمندری تجزیاتی کمپنی Kpler کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی تعداد تقریباً 90 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔
MarineTraffic کے ڈیٹا کے مطابق پیر سے اب تک صرف 9 تجارتی جہاز اس راستے سے گزرے ہیں، جبکہ بعض جہاز اپنی پوزیشن خفیہ رکھنے کے لیے ٹریکنگ سسٹم بھی بند کر رہے ہیں۔

امدادی جہاز بھی خطرے میں

میرین سکیورٹی کمپنی Vanguard کے مطابق بعض حملے ان جہازوں پر بھی کیے گئے جو پہلے متاثر ہونے والے جہازوں کی مدد کے لیے پہنچے تھے۔ ایک واقعے میں Mussafah 2 کو اس وقت دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جب وہ زخمی جہاز Safeen Prestige کی مدد کر رہا تھا۔

مغربی بحری اتحاد کے تحت قائم Joint Maritime Information Centre (JMIC) نے خبردار کیا ہے کہ امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے جہاز بھی ممکنہ طور پر حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔

ایران کے متضاد بیانات

ایران کی جانب سے اس حوالے سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے ایک جنرل نے پہلے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم بعد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کا اس راستے کو مکمل طور پر بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر اس علاقے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو فوجی تحفظ فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی عالمی معیشت کے لیے اہم سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اتحاد بنانے کی بات کی ہے۔

عالمی معیشت پر اثرات

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی طاقتیں اس اسٹریٹجک گزرگاہ کی سکیورٹی کو انتہائی اہم قرار دے رہی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button