ایرانتازہ ترین

ایران جنگ میں خلیجی ممالک کو دباؤ میں نہ لایا جائے، اسرائیل کے لیے محتاط حکمتِ عملی ضروری

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس دوران خلیجی ممالک ایک نازک امتحان سے گزر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کئی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں نے امریکہ اور اسرائیل کے اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت اور اس کے میزائل پروگرام کو خطے کے لیے بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اس کے باوجود خلیجی ممالک نے ابھی تک ایران کے خلاف جنگ میں براہِ راست شامل ہونے کا کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔

خلیجی ممالک کی محتاط پالیسی

کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خلیج کے بعض ممالک ایران کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، لیکن سرکاری سطح پر کسی بھی ملک نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر وہ براہِ راست جنگ میں شامل ہوئے تو ایران کی جانب سے مزید حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں سفارتی کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی ذرائع سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران میں ایک پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ اس دعوے پر ابوظہبی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ کسی دوسرے ملک کے بارے میں اس طرح کے دعوے کرنا مناسب نہیں۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق رکھتا ہے، تاہم وہ کسی بڑے تصادم یا جنگ میں شامل ہونے کا خواہاں نہیں۔

ابراہیم معاہدوں کے بعد نئی حقیقت

2020 میں ہونے والے ابراہیم معاہدوں کے بعد اسرائیل اور کئی خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری آئی تھی۔ ان معاہدوں نے خطے میں ایک نئی سفارتی اور سکیورٹی ترتیب کو جنم دیا جس کے نتیجے میں اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان محدود مگر اہم تعاون ممکن ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کے حوالے سے ان ممالک کے خدشات ایک جیسے ہیں، لیکن خلیجی ریاستیں اپنی خارجہ پالیسی اور فوجی فیصلوں میں مکمل خودمختاری برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

اسرائیل کے لیے سفارتی چیلنج

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی حکام کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ خلیجی ممالک کے بارے میں حساس معلومات یا ممکنہ فوجی اقدامات کے حوالے سے قیاس آرائیاں عوامی سطح پر نہ کی جائیں۔ اگر یہ تاثر پیدا ہوا کہ اسرائیل خلیجی ممالک کو جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے تو اس سے علاقائی تعاون متاثر ہو سکتا ہے۔

ممکنہ مستقبل

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک مستقبل میں ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ فیصلہ ان کی اپنی حکمتِ عملی کے تحت ہوگا۔ ایسے کسی بھی تعاون کو کھلے عام سیاسی دباؤ کے بجائے محتاط سفارتی انداز میں آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

موجودہ حالات میں واضح ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کو متاثر کر رہی ہے بلکہ خطے کی سفارتی اور سیاسی صف بندیوں کو بھی ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button