
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )لبنان میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ حزب اللہ نے اپنے جنگجوؤں کو ہدایت دی ہے کہ اگر لبنانی فوج اس کی سرگرمیوں میں مداخلت کرے تو اس کا مقابلہ کیا جائے۔ ایک باخبر ذریعے کے مطابق تنظیم کی قیادت نے واضح طور پر اپنے ارکان کو ہدایت دی ہے کہ اگر فوجی اہلکار راکٹ حملوں کو روکنے یا کسی عسکری پوزیشن کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو مزاحمت کی جائے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنانی حکومت نے حالیہ دنوں میں ایران سے وابستہ عناصر کے خلاف بعض اقدامات شروع کیے ہیں۔ حکام نے ایرانی شہریوں کے لیے لبنان میں داخلے پر ویزا لازمی قرار دے دیا ہے، جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو غیر قانونی تنظیم قرار دینے اور بعض ایرانی عہدیداروں کو ملک بدر کرنے جیسے فیصلے بھی کیے گئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدامات اسرائیل کے اس دباؤ کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں لبنان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم ایران سے منسلک گروپوں کے خلاف کارروائی کرے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بیروت میں ایک کارروائی کے دوران ایران کی قدس فورس سے وابستہ لبنانی کور کے پانچ سینئر کمانڈروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ حملہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا اور اس کا مقصد لبنان میں ایرانی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا تھا۔

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ لبنانی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف کچھ اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں، لیکن حزب اللہ کے خلاف اب تک کوئی بڑا یا فیصلہ کن اقدام سامنے نہیں آیا۔
ادھر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اقوام متحدہ کی لبنان کے لیے خصوصی رابطہ کار جوانا ورونیکا کے اسرائیل پہنچنے کی بھی توقع ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وہ جاری کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کریں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حزب اللہ اور لبنانی فوج کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تو لبنان کے اندرونی حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں اور خطے میں جاری تنازع ایک نئے محاذ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔



