
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران میں جاری جنگ نے عالمی معیشت اور مالیاتی منڈیوں کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تنازع کے باعث جہاں کئی ممالک میں توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا ہو رہی ہے، وہیں بعض توانائی کمپنیاں اس صورتحال سے مالی فائدہ بھی حاصل کر رہی ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہونے سے توانائی کی عالمی منڈی میں اچانک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے خاص طور پر امریکی مائع قدرتی گیس (LNG) برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث قطر کا راس لفان گیس پلانٹ عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ پلانٹ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر ایل این جی پیدا کرتا ہے اور عام طور پر آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈیوں تک گیس پہنچاتا ہے۔ پلانٹ کی بندش سے عالمی گیس مارکیٹ میں شدید دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔

اس صورتحال میں امریکہ، جو حالیہ برسوں میں شیل گیس انقلاب کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کنندہ بن چکا ہے، اس خلا کو جزوی طور پر پورا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ امریکی کمپنیوں کے پاس گیس کا ایک ایسا حصہ موجود ہے جو طویل مدتی معاہدوں سے منسلک نہیں ہے، اس لیے وہ اسے فوری مارکیٹ میں زیادہ قیمت پر فروخت کر سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کے پہلے ہفتے کے دوران یورپ اور ایشیا میں گیس کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق اگر کشیدگی جاری رہی تو امریکی ایل این جی صنعت کو صرف پہلے مہینے میں تقریباً چار ارب ڈالر تک اضافی منافع حاصل ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں وینچر گلوبل اور شینیئر انرجی جیسے بڑے امریکی گیس برآمد کنندگان شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں ان کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جنگی حالات میں فائدہ ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔ اگر توانائی کی قیمتیں اچانک کم ہو جائیں تو یہی کمپنیاں نقصان کا سامنا بھی کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی برآمد کنندگان قطر کی پوری سپلائی کی کمی کو مکمل طور پر پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
دوسری جانب عام صارفین کے لیے صورتحال مختلف ہے۔ امریکہ سمیت کئی ممالک میں پیٹرول اور توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے عوامی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی لیے امریکی حکومت ٹینکرز کو خلیج سے محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے بحری جہازوں کی نگرانی اور انشورنس جیسے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایران جنگ نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی صرف سیاسی یا عسکری مسئلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور معیشت پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہے۔



