نیدرلینڈز کا ایران کے سفیر کو طلب، تہران ایئرپورٹ پر سفارتی سامان ضبط کرنے پر سخت احتجاج

(تازہ حالات رپورٹ ) — ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک انتہائی حساس سفارتی اور انٹیلی جنس واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ہالینڈ (نیدرلینڈز) کے ایک اعلیٰ سفارت کار اپنا سامان ہوائی اڈے پر ہی چھوڑ کر اچانک ملک سے فرار ہو گئے۔ سامان کی قانونی تلاشی لینے پر اس میں سے جاسوسی اور جدید سیٹلائٹ مواصلات کے ممنوعہ آلات برآمد ہوئے ہیں۔
واقعے کا پس منظر اور ملک گیر ہنگامے
یہ حیران کن واقعہ رواں سال جنوری میں اس وقت پیش آیا جب ایران کو ملک گیر پرتشدد ہنگاموں اور بدامنی کا سامنا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق، ان پرتشدد مظاہروں کو مبینہ طور پر امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (CIA) اور اسرائیلی ایجنسی موساد (Mossad) کی پشت پناہی حاصل تھی۔ ان فسادات اور جھڑپوں کے دوران 2,500 سے زائد عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس کشیدہ صورتحال میں غیر ملکی مداخلت کو روکنے کے لیے ایران نے انٹرنیٹ سروسز کو بھی محدود کر رکھا تھا۔
ایئرپورٹ پر ہائی ڈرامہ اور سفارت کار کا فرار
آئی آر آئی بی (IRIB) اور ‘دی تہران ٹائمز’ کی آزادانہ تحقیقات کے مطابق، اس سفارت کار کی شناخت تہران میں ہالینڈ کے نائب سفیر ‘آندرے وان وگن’ (Andre van Wiggen) کے طور پر ہوئی ہے۔
- وہ دبئی کے ایک روزہ مختصر دورے کے بعد کمرشل فلائٹ کے ذریعے تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تھے۔
- ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سفارت کار نے یہ ممنوعہ مواصلاتی آلات دبئی میں اپنے اسی مختصر قیام کے دوران حاصل کیے تھے۔
- ہوائی اڈے پر معمول کی چیکنگ کے دوران جب سیکیورٹی حکام نے ان کے سامان کو ایکسرے (X-ray) سکینر سے گزارنے کا کہا، تو انہوں نے ‘سفارتی استثنیٰ’ (Diplomatic Immunity) کا حوالہ دیتے ہوئے تلاشی سے صاف انکار کر دیا۔
ہوائی اڈے کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تلاشی کے احکامات ملنے کے بعد ڈچ سفارت کار اپنا پاؤں سامان پر رکھے بیٹھے ہیں۔ تاہم، بین الاقوامی ہوا بازی کے قوانین (خصوصاً ICAO Annex 17) کے تحت، جب معاملہ قومی سلامتی کا ہو تو سفارتی استثنیٰ کو بنیاد بنا کر سیکیورٹی چیکنگ سے مکمل چھوٹ حاصل نہیں کی جا سکتی۔
صورتحال کو دیکھتے ہوئے، سفارت کار اپنے سامان کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی وضاحت طلب کیے بغیر ہی اچانک ایران سے روانہ ہو گئے۔
سامان کی تلاشی اور ممنوعہ آلات کی برآمدگی
اس واقعے کے چند روز بعد، ایک اور ڈچ سفارت کار اس ضبط شدہ سامان کو وصول کرنے ایئرپورٹ پہنچے۔ جب بین الاقوامی اور ایرانی قوانین کے تحت، ڈچ سفارت خانے، ایرانی وزارت خارجہ اور ایئرپورٹ کے اعلیٰ حکام کی موجودگی میں اس سامان کو کھولا گیا تو اس میں سے انتہائی حساس آلات برآمد ہوئے۔
ان آلات میں دو سٹار لنک (Starlink) سیٹلائٹ موڈیمز اور سات سیٹلائٹ فونز شامل تھے۔ ایران میں اس طرح کے آلات کے استعمال پر سخت پابندی عائد ہے کیونکہ ماضی میں غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں انہیں اپنے خفیہ رابطوں، کارروائیوں کو چھپانے اور ملک میں شرپسند عناصر سے رابطہ قائم کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ ان آلات کو ملک میں لانے کے لیے پیشگی اجازت درکار ہوتی ہے، جو حاصل نہیں کی گئی تھی۔



