ایرانتازہ ترین

کم قیمت مگر خطرناک: ایرانی ڈرونز امریکی دفاعی نظام کے لیے بڑا چیلنج

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کامیکازی ڈرون ہتھیاروں کا ذخیرہ امریکہ کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کم قیمت مگر طویل فاصلے تک مار کرنے والے یہ ڈرونز مستقبل کی جنگوں میں روایتی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی فوج کے سابق انٹیلی جنس افسر اور ڈرون ماہر بریٹ ویلیکووچ کے مطابق دنیا میں جنگ کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے، سست رفتار اور کم قیمت ڈرونز کی بڑی تعداد ایک ساتھ بھیجنے کی حکمت عملی کو روکنا روایتی میزائل دفاعی نظام کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق ایسے ڈرونز نہ صرف سست رفتار ہوتے ہیں بلکہ کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں جس کی وجہ سے روایتی ریڈار سسٹمز انہیں بروقت شناخت نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین اس نئی حکمت عملی کو غیر روایتی یا “اسیمیٹرک وارفیئر” قرار دیتے ہیں۔

ایران گزشتہ کئی برسوں سے اپنے کامیکازی ڈرون پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ خاص طور پر شاہد-136 نامی ڈرون کو طویل فاصلے تک حملہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ڈرون تقریباً 115 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے اور 1500 میل سے زیادہ فاصلے تک جا سکتا ہے جبکہ اس میں دھماکہ خیز مواد بھی نصب کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان ڈرونز کی ایک بڑی خصوصیت ان کی کم قیمت ہے۔ اندازوں کے مطابق ایک ڈرون کی قیمت 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان ہوتی ہے، جو دفاعی میزائلوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن بیک وقت درجنوں یا سینکڑوں ڈرونز بھیج کر دفاعی نظام کو تھکا سکتا ہے۔

حال ہی میں امریکہ میں ایک لیک ہونے والی سکیورٹی وارننگ میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر کیلیفورنیا پر ڈرون حملے کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ڈرونز کو کسی نامعلوم جہاز یا کشتی سے امریکہ کے ساحل کے قریب لانچ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے اس خطرے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اس وقت ایران کی جانب سے کسی براہِ راست حملے کا سامنا نہیں۔ اس کے باوجود دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ امریکی دفاعی نظام میں موجود ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی دشمن عام کشتی یا تجارتی جہاز سے ڈرونز لانچ کرے تو اسے فوری طور پر شناخت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے مستقبل کی جنگوں میں چھوٹے اور سست رفتار ڈرونز بڑے میزائلوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اپنی سکیورٹی حکمت عملی کو جلد اپ ڈیٹ کرنا ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک آئندہ برسوں میں 2026 فٹبال ورلڈ کپ اور 2028 اولمپکس جیسے بڑے عالمی ایونٹس کی میزبانی بھی کرنے جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کے تیزی سے پھیلاؤ نے جنگ کے انداز کو بدل دیا ہے اور اب حکومتوں کو تیز رفتار اور جدید دفاعی نظام تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے ممکنہ خطرات کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button