
تہران/واشنگٹن: (تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے کے روز تہران پر ہونے والے وسیع امریکی۔اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر اتوار کی علی الصبح ایک اعلان میں ان کی موت کی تصدیق کی گئی، جہاں خبر سنانے والا اینکر جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور کہا کہ 86 سالہ رہنما نے “رمضان کے مقدس مہینے میں شہادت کی آرزو پوری کی”۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور پوتی بھی ہلاک ہوئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور سیٹلائٹ تصاویر میں مبینہ طور پر سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کو شدید نقصان دکھایا گیا ہے۔
تہران کا سخت ردعمل
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بیان جاری کرتے ہوئے خامنہ ای کی “شہادت” کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ یہ واقعہ “اسلامی تاریخ میں ایک نیا باب” کھولے گا۔ ایرانی حکام نے حملوں کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ خامنہ ای کی ہلاکت “انصاف کی فراہمی” ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے یہ کارروائی ممکن ہوئی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی انقلابی گارڈ اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے بعض اہلکار “مزاحمت جاری رکھنے کے خواہش مند نہیں” اور انہیں ممکنہ طور پر رعایت دی جا سکتی ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی اشارہ دیا کہ فضائی کارروائیاں “مقصد کے حصول تک جاری رہیں گی”۔
خامنہ ای کون تھے؟
آیت اللہ علی خامنہ ای گزشتہ چار دہائیوں سے ایران کی سیاست اور مذہبی قیادت کا مرکزی چہرہ رہے۔ 1939 میں مشہد میں پیدا ہونے والے خامنہ ای نے مذہبی تعلیم حاصل کی اور 1979 کے اسلامی انقلاب میں فعال کردار ادا کیا۔ 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد وہ ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہوئے اور تب سے ملک کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی اتھارٹی رہے۔
ان کے دور میں ایران نے داخلی اور خارجی سطح پر اہم تبدیلیاں دیکھیں، جن میں ایران۔عراق جنگ کے بعد علاقائی اثر و رسوخ میں اضافہ، جوہری پروگرام کی توسیع اور پاسدارانِ انقلاب کا بڑھتا کردار شامل ہے۔
جانشینی کا سوال
خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سب سے بڑا سوال ان کے جانشین کا ہے۔ بعض مبصرین ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام لیتے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک کوئی سخت گیر قدامت پسند رہنما اس منصب پر آ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا کردار اس عمل میں فیصلہ کن ہوگا، کیونکہ وہ ملکی سیاست اور معیشت میں وسیع اثر و رسوخ رکھتی ہے۔
خطے پر ممکنہ اثرات
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ خامنہ ای کی ہلاکت خطے میں طاقت کے توازن کو یکسر بدل سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک اور اسرائیل میں ہائی الرٹ برقرار ہے۔ عالمی برادری کشیدگی کم کرنے کی اپیل کر رہی ہے، تاہم صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔



