ایرانتازہ ترین

ایران جنگ میں امریکی A-10 طیاروں کی فضائی کارروائیاں تیز

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی فضائیہ کے A-10 تھنڈربولٹ II جنگی طیارے مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائی “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ معلومات کے مطابق ان طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کیا گیا تاکہ وہ طویل وقت تک فضائی نگرانی اور ممکنہ مشنز کے لیے تیار رہ سکیں۔

امریکی فضائیہ کے مطابق A-10 تھنڈربولٹ II کو خاص طور پر زمینی اہداف کے خلاف کارروائی اور قریبی فضائی مدد (Close Air Support) کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس طیارے کی خاصیت یہ ہے کہ یہ گھنٹوں تک ایک ہی علاقے میں پرواز کرتے ہوئے مشن کے لیے تیار رہ سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی انجام دے سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دورانِ پرواز ایندھن بھرنے کی صلاحیت کسی بھی جنگی طیارے کی آپریشنل حد کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے طیارے طویل فاصلے تک پرواز کر سکتے ہیں اور میدانِ جنگ میں زیادہ دیر تک موجود رہ کر فوجی دستوں کو مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

A-10 تھنڈربولٹ، جسے غیر رسمی طور پر “وار تھاگ” بھی کہا جاتا ہے، اپنی طاقتور 30 ملی میٹر GAU-8 ایوینجر توپ اور بھاری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے باعث امریکی فضائیہ کے اہم ترین حملہ آور طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر زمینی اہداف کو تباہ کرنے کے لیے انتہائی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایسے طیاروں کی تعیناتی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی افواج میدانِ جنگ میں طویل اور مسلسل فضائی آپریشنز کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ A-10 جیسے طیارے کسی بھی ممکنہ زمینی یا فضائی کارروائی کے دوران فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button