
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے جنگی جہاز بھیجنے کی درخواست فوری طور پر ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اتوار کو ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی جس میں خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
برطانوی وزیر اعظم کے دفتر ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق گفتگو میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عالمی جہاز رانی اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کرنے والی صورتحال کے خاتمے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ضروری ہے۔ تاہم برطانیہ نے فی الحال جنگی جہاز بھیجنے کے بجائے دیگر تکنیکی اور دفاعی تعاون پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لندن حکومت اس وقت خلیج میں پھنسے تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے مائن تلاش کرنے والے ڈرونز اور میزائل دفاعی نظام فراہم کرنے جیسے اقدامات پر غور کر رہی ہے، جبکہ براہ راست جنگی جہاز بھیجنے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اس سے قبل مطالبہ کیا تھا کہ برطانیہ، فرانس اور چین سمیت دیگر عالمی طاقتیں بھی آبنائے ہرمز میں بحری جہاز تعینات کریں تاکہ ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے اور عالمی توانائی سپلائی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ادھر ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کسی فوجی کارروائی میں حصہ لیا تو اسے اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران اس وقت برطانیہ کے ساتھ جنگ میں نہیں ہے، لیکن کسی بھی ممکنہ مداخلت کو “جارحیت میں شمولیت” سمجھا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد سپلائی گزرتی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور کئی ممالک کو توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔
دوسری جانب برطانوی حکومت کو یہ خدشہ بھی ہے کہ خلیج میں براہ راست فوجی تعیناتی سے برطانیہ ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں مزید گہرائی تک شامل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے لندن اس وقت سفارتی اور محدود عسکری تعاون کے ذریعے صورتحال کو سنبھالنے کی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے۔



