ایرانتازہ ترین

ایران کا دعویٰ: روس اور چین سے سیاسی، اقتصادی اور فوجی تعاون جاری

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ روس اور چین تہران کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں سیاسی، اقتصادی اور فوجی تعاون بھی شامل ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کا امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔

ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ روس اور چین ایران کے اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے ان کے ساتھ قریبی تعاون جاری ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات نہ صرف سفارتی اور معاشی سطح پر مضبوط ہیں بلکہ دفاعی تعاون بھی اس شراکت داری کا حصہ ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اشارہ دیا تھا کہ روس ممکنہ طور پر ایران کی کسی حد تک مدد کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ روس شاید اس وجہ سے ایسا کر رہا ہے کیونکہ امریکا یوکرین کی مدد کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران، روس اور چین کے درمیان تعلقات گزشتہ ایک دہائی میں خاص طور پر مضبوط ہوئے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ مغربی پابندیاں اور جغرافیائی سیاسی تناؤ ہے۔ ایران نے روس کو اپنے تیار کردہ شاہد ڈرونز فراہم کیے ہیں جنہیں روس یوکرین جنگ میں استعمال کرتا رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک ماضی میں شام میں بھی ایک ہی حکومت کی حمایت کر چکے ہیں۔

دوسری جانب چین کے ساتھ ایران کے اقتصادی تعلقات بھی گہرے ہیں۔ دونوں ممالک نے 2021 میں 25 سالہ اقتصادی تعاون معاہدہ کیا تھا جس کے تحت چین کو ایران کے تیل اور توانائی کے ذخائر تک رسائی حاصل ہے جبکہ چین ایران میں مختلف انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

عباس عراقچی نے انٹرویو میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم سمندری راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا بلکہ صرف ان ممالک کے جہازوں کے لیے محدود کیا گیا ہے جو ایران کے خلاف کارروائیوں میں شامل ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور عالمی منڈی میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور بڑی طاقتیں اس تنازع میں مزید شامل ہوئیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button