تازہ ترینیورپ امریکا

جرمنی کا نیٹو کے کردار سے واضح انکار، یورپ اور امریکہ میں اختلافات نمایاں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران جرمنی نے ایک اہم پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں نیٹو کا کوئی براہِ راست کردار نہیں بنتا۔ جرمن وزیر خارجہ نے برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس حوالے سے نہ تو نیٹو کے اندر کوئی باضابطہ فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی اتحاد اس ذمہ داری کو سنبھالنے کی تیاری میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نیٹو اس معاملے میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا تو اس پر پہلے ہی اتحاد کے اندر تفصیلی مشاورت کی جا چکی ہوتی، تاہم فی الحال ایسا کوئی عمل سامنے نہیں آیا۔ جرمنی کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ اس سمندری راستے سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

دوسری جانب امریکہ کی جانب سے یورپی اتحادیوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح پیغام دیا ہے کہ اتحادی ممالک کو اس اہم گزرگاہ کے تحفظ میں عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر نیٹو ممالک نے امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو اتحاد کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یورپی سفارتی حلقوں میں اس معاملے پر محتاط رویہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یورپی ممالک کسی براہِ راست عسکری مداخلت سے گریز کرنا چاہتے ہیں اور ترجیح دیتے ہیں کہ مسئلے کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور کسی بھی نئے فوجی اقدام سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اختلافات دراصل مغربی اتحاد کے اندر پالیسی کے مختلف زاویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف امریکہ فوری اور مضبوط ردعمل پر زور دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب یورپی ممالک محتاط اور متوازن حکمت عملی اپنانا چاہتے ہیں۔

اگرچہ نیٹو کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی اثرات کا حامل ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button