
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف حملوں کی شدت اور تسلسل نے نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 17 دنوں میں ایران نے ایک ہزار سے زائد میزائل اور تین ہزار سے زیادہ ڈرونز داغے، جس سے خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والے اس سلسلے میں ابتدائی دنوں میں حملوں کی شدت زیادہ تھی، جہاں پہلے ہی دن سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائل فائر کیے گئے۔ اس کے بعد کے دنوں میں تعداد میں کمی ضرور دیکھی گئی، تاہم حملوں کا تسلسل برقرار رہا، جسے ماہرین ایک منظم حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی حکمت عملی اب “مسلسل دباؤ” پر مبنی دکھائی دیتی ہے، جس میں کم تعداد میں مگر باقاعدہ وقفوں سے حملے کیے جا رہے ہیں تاکہ مخالف دفاعی نظام کو مسلسل مصروف رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار نہ صرف دفاعی وسائل کو تھکانے کا باعث بنتا ہے بلکہ نفسیاتی دباؤ بھی بڑھاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 1185 میزائل اور 3335 ڈرونز استعمال کیے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈرونز اس تنازع میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈرونز کی بڑی تعداد کم لاگت اور وسیع استعمال کی وجہ سے جدید جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

دوسری جانب امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام نے ان حملوں کا بڑا حصہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم مسلسل حملوں کے باعث سیکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور طویل المدتی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
28 فروری 2026 میزائل: 350+ ڈرون: 800+ 1 مارچ 2026 میزائل: 175 ڈرون: 400 2 مارچ 2026 میزائل: 120 ڈرون: 500 3 مارچ 2026 میزائل: 110 ڈرون: 280 4 مارچ 2026 میزائل: 50 ڈرون: 230 5 مارچ 2026 میزائل: 35 ڈرون: 100 6 مارچ 2026 میزائل: 35 ڈرون: 135 7 مارچ 2026 میزائل: 30 ڈرون: 165 8 مارچ 2026 میزائل: 55 ڈرون: 180 9 مارچ 2026 میزائل: 25 ڈرون: 55 10 مارچ 2026 میزائل: 45 ڈرون: 45 11 مارچ 2026 میزائل: 30 ڈرون: 40 12 مارچ 2026 میزائل: 25 ڈرون: 65 13 مارچ 2026 میزائل: 30 ڈرون: 110 14 مارچ 2026 میزائل: 25 ڈرون: 75 15 مارچ 2026 میزائل: 20 ڈرون: 50 کل اندازاً: میزائل: 1185 ڈرون: 3335
دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل نے اپنے دفاعی نظام کو مزید فعال کر دیا ہے اور متعدد حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم مسلسل حملوں کی وجہ سے مکمل تحفظ ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
علاقائی ماہرین کے مطابق اگر یہی حکمت عملی جاری رہی تو یہ تنازع ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر توانائی اور تجارت کے شعبوں میں۔



