امریکاتازہ ترین

آبنائے ہرمز کے قریب امریکی حملہ، ایرانی میزائل تنصیبات تباہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ نے ایران کے زیرِ زمین میزائل ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے طاقتور “بنکر بسٹر” بموں سے حملہ کیا ہے، جس کے بعد خلیج فارس میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق منگل کے روز ایران کے ساحلی علاقوں، خصوصاً آبنائے ہرمز کے قریب موجود مضبوط اور زیرِ زمین میزائل تنصیبات پر 5 ہزار پاؤنڈ وزنی جدید “ڈیپ پینیٹریٹر” بم استعمال کیے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ ان تنصیبات میں موجود ایرانی اینٹی شپ کروز میزائل عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے تھے، اسی لیے انہیں نشانہ بنایا گیا۔

بنکر بسٹر بم کیا ہیں؟

امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں GBU-72 Advanced 5K Penetrator نامی جدید بم استعمال کیے گئے، جو خاص طور پر گہرائی میں موجود مضبوط اہداف کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

یہ بم زمین کے اندر کئی میٹر تک داخل ہو کر دھماکہ کرتے ہیں، جس سے زیرِ زمین بنکرز، میزائل سائٹس اور دفاعی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ گزرتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے بارودی سرنگوں، ڈرونز اور جنگی کشتیوں کے ذریعے اس راستے کو بند کرنے کی کوششوں کے باعث:

  • عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی
  • توانائی کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا

امریکی مؤقف

CENTCOM کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ امریکہ “آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو لاحق خطرات کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا”۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج مسلسل پیش رفت کر رہی ہیں اور خطے میں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

عالمی ردعمل اور خدشات

اس حملے کے بعد:

  • ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان بڑھ گیا ہے
  • خلیجی ممالک میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے
  • عالمی توانائی مارکیٹ مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے

ادھر امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس اہم بحری راستے کو کھولنے میں بھرپور کردار ادا نہیں کر رہے۔

صورتحال کس طرف جا رہی ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ حملہ صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک بڑا اسٹریٹجک پیغام بھی ہے، جس کا مقصد ایران کی بحری اور میزائل صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو یہ تنازع خطے میں ایک وسیع جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور سلامتی پر بھی پڑیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button