
(تازہ حالات رپورٹ )— مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ ایک جانب خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تو دوسری جانب اسرائیلی انٹیلی جنس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے پاس ایران پر طویل مدتی اور شدید حملے کی صلاحیت محدود ہے۔ اسی دوران اسرائیل نے لبنان کو خبردار کیا ہے کہ اگر حزب اللہ نے مداخلت کی تو بیروت ایئرپورٹ سمیت شہری انفراسٹرکچر کو کھنڈر بنا دیا جائے گا۔
ایران پر حملے کے لیے امریکی فوجی صلاحیت کتنی ہے؟ برطانوی اخبار ‘فنانشل ٹائمز’ (Financial Times) نے ایک اعلیٰ اسرائیلی انٹیلی جنس ذریعے کے حوالے سے تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، خطے میں (یونان کے قریب) جدید ترین امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ’ (USS Gerald R. Ford) اور اس کے اسٹرائیک گروپ کی موجودگی کے باوجود، امریکہ کی ایران کے خلاف فوجی صلاحیت توقعات سے کم ہے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کی تشخیص کے مطابق، موجودہ حالات میں امریکہ صرف "چار سے پانچ دن” تک شدید نوعیت کے فضائی حملے، یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے تک "کم شدت” کے حملے کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ یہ رپورٹ امریکی فوجی سربراہ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو طویل جنگ کے بھاری مالی اور جانی نقصانات کے انتباہ کے عین مطابق ہے۔

امریکی افواج کی خطے میں خاموش لیکن تیزی سے منتقلی امریکی حملے کی صلاحیت پر اٹھنے والے سوالات کے برعکس، ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے سیٹلائٹ تصاویر اور ایوی ایشن ڈیٹا کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوج خطے میں تیزی سے اپنی طاقت بڑھا رہی ہے۔ جنیوا مذاکرات کے اختتام کے بعد سے، امریکہ نے اردن کے ‘السلتی بیس’ (Al-Salti base) سمیت مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے مختلف فوجی اڈوں پر 150 سے زائد مختلف جنگی طیارے منتقل کیے ہیں۔
اس فوجی دباؤ میں اضافے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پر مزید دو امریکی ملٹری ری فیولنگ (ہوا میں ایندھن بھرنے والے) طیارے اترے ہیں، جس سے وہاں موجود ایسے طیاروں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

اسرائیل کی لبنان اور حزب اللہ کو سخت وارننگ جنگ کا دائرہ کار پھیلنے کے خدشات کے پیشِ نظر اسرائیل نے لبنان کی حکومت کو سخت پیغام بھیجا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ نے دو سینئر لبنانی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے بالواسطہ چینلز کے ذریعے بیروت کو دھمکی دی ہے کہ اگر حزب اللہ نے اس جنگ میں مداخلت کی تو اسرائیل لبنان کے شہری انفراسٹرکچر پر کڑی ضرب لگائے گا۔ اس دھمکی میں خاص طور پر واضح کیا گیا ہے کہ ایسی صورت میں بیروت کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ (Rafic Hariri International Airport) بھی سیدھے نشانے پر ہوگا۔

ٹرمپ کی مایوسی اور ایران کا جوابی ایکشن امریکی ٹی وی نیٹ ورک ‘سی بی ایس’ (CBS) کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی طاقت کی اس ‘محدودیت’ پر شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اپنے مشیروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ کوئی ایسا "ڈرامائی اور تباہ کن” فوجی ایکشن تجویز کریں جو تہران کی قیادت کو ہلا کر رکھ دے اور انہیں واشنگٹن کی شرائط پر مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کرے۔ تاہم، پینٹاگون کے سینیئر کمانڈرز نے صدر کو متنبہ کیا ہے کہ جنگیں کبھی بھی طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق نہیں چلتیں اور ایک محتاط حملہ بھی خطے کو ایک بے قابو اور طویل جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔
دوسری جانب، ان امریکی اور اسرائیلی دھمکیوں کے جواب میں ایران نے بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ایران کے جنوبی ساحل پر وسیع زمینی جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں، جسے خطے میں امریکی فورسز کے لیے ایک واضح اور براہ راست انتباہ سمجھا جا رہا ہے۔



