
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن/خلیج: امریکہ نے خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری تجارت کو درپیش خطرات کے پیش نظر ایک نئی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فوجی تحفظ کے ساتھ حکومتی انشورنس سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ جو تجارتی جہاز امریکی بحریہ کی نگرانی میں آبنائے ہرمز سے گزریں، انہیں لازمی طور پر حکومتی انشورنس پروگرام میں شامل کیا جائے۔
حکومتی انشورنس اور بحری تحفظ ایک ساتھ
ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت جہازوں کو امریکی ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) کے ذریعے انشورنس حاصل کرنا ہوگی، جبکہ نجی انشورنس کمپنیوں کے ساتھ شراکت بھی زیر غور ہے۔
اس انشورنس میں جہاز، اس کا سامان اور کارگو شامل ہوگا، اور اسے خاص طور پر “وار رسک” یعنی جنگی خطرات کے تناظر میں تیار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد انشورنس کمپنیوں کے پیچھے ہٹنے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنا ہے۔
کشیدگی کے باعث شپنگ شدید متاثر
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، حالیہ ایران-امریکہ کشیدگی کے بعد شدید خطرات کا شکار ہے۔ اس صورتحال کے باعث کئی جہاز مالکان نے اس راستے سے گزرنے سے گریز شروع کر دیا ہے، جبکہ انشورنس اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بعض کمپنیوں نے جہازوں کو متبادل طویل راستوں پر منتقل کر دیا ہے، جس سے عالمی سپلائی چین اور تیل کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
بحری قافلے (Naval Escorts) کیوں ضروری؟
امریکہ پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر بحریہ کے ذریعے تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرے گا، تاہم یہ عمل سکیورٹی حالات بہتر ہونے سے مشروط ہے۔
ماہرین کے مطابق بحری قافلوں کی صورت میں جہازوں کو گروپ کی شکل میں گزارا جائے گا، جس سے خطرات کم ہو سکتے ہیں لیکن رفتار اور سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
ممکنہ معاشی اور سیاسی اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ نافذ ہو جاتا ہے تو امریکہ کو مالی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں، جبکہ عالمی شپنگ انڈسٹری کو کسی حد تک اعتماد مل سکتا ہے۔
تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ یہ نظام عملی طور پر پیچیدہ ہو سکتا ہے اور ہر جہاز کے لیے قابلِ عمل نہیں ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں سکیورٹی صورتحال غیر یقینی ہو۔
خطے میں بڑھتی ہوئی حساسیت
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی حساس مقام بن چکی ہے اور کسی بھی رکاوٹ سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی تجارت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر، امریکی منصوبہ خطے میں جاری بحران کے دوران بحری تجارت کو سہارا دینے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار سکیورٹی حالات اور بین الاقوامی تعاون پر ہوگا۔



