
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن/تہران/دوحہ: ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار اور علم پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ کو ایک وسیع تر توانائی اور سکیورٹی بحران کی طرف لے جا سکتی ہے۔
ٹرمپ کے بیان پر شکوک
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اسرائیلی حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، تاہم مختلف تجزیہ کار اس مؤقف کو قابلِ یقین نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق اتنے بڑے اور حساس حملے کا امریکی منظوری یا کم از کم علم کے بغیر ہونا مشکل ہے۔
بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی قیادت کو اس کارروائی کی پیشگی معلومات تھیں، جس کے بعد یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ آیا واشنگٹن نے اس حملے کی خاموش حمایت کی۔
حملے کے بعد خطے میں کشیدگی
اسرائیل کی جانب سے پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات پر جوابی حملے کیے، جن میں قطر کا راس لفان صنعتی علاقہ بھی شامل ہے۔ اس پیش رفت نے توانائی کے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب صرف فوجی نہیں بلکہ معاشی اور توانائی کے میدان میں بھی پھیل چکی ہے۔

خلیجی ممالک کے لیے خطرہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پارس گیس فیلڈ دراصل قطر کے نارتھ فیلڈ سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس پر حملہ بالواسطہ طور پر قطر کے مفادات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک اس صورتحال میں خود کو زیادہ غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
امریکہ کے کردار پر سوال
ماہرین کے مطابق اگر امریکہ واقعی اس حملے سے لاعلم تھا تو یہ اس کی علاقائی پالیسی اور اتحادیوں کے تحفظ پر سوال اٹھاتا ہے۔ اور اگر اسے علم تھا تو پھر یہ معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ اس صورت میں امریکہ پر کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد ہو سکتا ہے۔
جنگ کا نیا مرحلہ: تھکن اور دباؤ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں فریقین ایک دوسرے پر مسلسل دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد معاشی اور سکیورٹی سطح پر نقصان پہنچانا ہے۔
عالمی معیشت پر اثرات
ماہرین کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی میں رکاوٹ اور مہنگائی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
خطرناک موڑ
مبصرین کے مطابق پارس گیس فیلڈ پر حملہ اس جنگ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر اثرات مرتب کرے گا۔
اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔



