ایرانتازہ ترین

ایرانی کلسٹر میزائل خطرہ بڑھ گیا: کھلنے کے بعد روکنا ناممکن، اسرائیلی ماہر کا انتباہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران استعمال ہونے والے جدید میزائلوں نے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسرائیل کے معروف میزائل دفاعی ماہر ڈاکٹر اوزی روبن نے خبردار کیا ہے کہ اگر کلسٹر وارہیڈ اپنے ہدف کے قریب پہنچ کر کھل جائے تو اسے روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا، “جب کلسٹر کھل جائے تو پھر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔”

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دفاعی ماہرین ایرانی میزائل پروگرام میں استعمال ہونے والے کلسٹر وارہیڈز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

کلسٹر وارہیڈ کیا ہوتا ہے؟

کلسٹر وارہیڈ دراصل ایک ایسا دھماکہ خیز نظام ہوتا ہے جس میں ایک بڑے دھماکے کی بجائے درجنوں چھوٹے بم (bomblets) شامل ہوتے ہیں۔

جب میزائل ہدف کے قریب پہنچتا ہے تو اس کا اگلا حصہ کھل جاتا ہے اور یہ چھوٹے بم فضا میں پھیل کر وسیع علاقے میں گر جاتے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی نئی نہیں بلکہ ماضی میں بھی مختلف جنگوں میں استعمال ہوتی رہی ہے، تاہم جدید میزائلوں کے ساتھ اس کا استعمال اسے زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے۔

دفاعی نظام کے لیے اصل چیلنج کیا ہے؟

ڈاکٹر روبن کے مطابق سب سے اہم عنصر “وقت” ہے۔

اگر میزائل کو اس وقت تباہ نہ کیا جائے جب وہ ابھی ایک مکمل یونٹ کی شکل میں ہو، تو بعد میں اسے روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

آئرن ڈوم کیوں مؤثر نہیں؟

عالمی سطح پر اسرائیل کے آئرن ڈوم دفاعی نظام کو کافی شہرت حاصل ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ نظام اس قسم کے خطرے کے لیے نہیں بنایا گیا۔

روبن کے مطابق:

  • آئرن ڈوم کم فاصلے کے راکٹ روکنے کے لیے ہے
  • طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کے لیے “ایرو” جیسے ہائی آلٹیٹیوڈ سسٹمز استعمال ہوتے ہیں
  • کلسٹر وارہیڈز کو روکنے کے لیے بھی یہی ہائی آلٹیٹیوڈ دفاع ضروری ہے

کلسٹر بم بمقابلہ روایتی وارہیڈ

دونوں ہتھیاروں کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے:

کلسٹر وارہیڈ:

  • وسیع علاقے میں نقصان پھیلانے کے لیے
  • کھلے میدان میں موجود فوج یا غیر محفوظ تنصیبات کے خلاف مؤثر

روایتی (یونٹری) وارہیڈ:

  • ایک مخصوص مقام پر شدید تباہی
  • عمارتوں یا مضبوط اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے زیادہ مؤثر

ہر چھوٹا بم اگرچہ سائز میں کم ہوتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

کیا یہ نیا خطرہ ہے؟

ماہرین کے مطابق کلسٹر وارہیڈز کوئی نئی ٹیکنالوجی نہیں ہیں، لیکن حالیہ تنازع میں ان کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگی حکمت عملی تبدیل ہو رہی ہے۔

ایران کے مختلف میزائل سسٹمز ایسے وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے دفاعی نظام کے لیے خطرہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

بدلتی جنگی حکمت عملی

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں:

  • “ملٹی پل وارہیڈ” اور “ڈسپرسڈ حملے” عام ہو سکتے ہیں
  • ایک میزائل سے کئی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے گا
  • روایتی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھے گا

اس صورتحال میں ممالک کو نہ صرف جدید دفاعی ٹیکنالوجی بلکہ تیز رفتار ردعمل کے نظام کی بھی ضرورت ہوگی۔

نتیجہ

ڈاکٹر روبن کے مطابق اصل جنگ چند سیکنڈز اور چند کلومیٹر کی ہوتی ہے۔

اگر میزائل کو بروقت نہ روکا جائے تو دفاعی نظام بے بس ہو جاتا ہے اور پھر نقصان کو صرف کم کرنے کی کوشش ہی باقی رہ جاتی ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں یہ انتباہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید جنگ اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ، تیز اور خطرناک ہو چکی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button