تازہ ترینسائنس ٹیکنالوجی

چین کا ’اسٹارلنک کِلر‘ ہتھیار؟ مائیکروویو ٹیکنالوجی میں بڑی پیش رفت

بیجنگ:
چین نے جدید مائیکروویو ہتھیاروں کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، جسے دفاعی ماہرین امریکی سیٹلائٹ نیٹ ورک اسٹارلنک کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ چینی محققین کے مطابق یہ نیا ہائی پاور مائیکروویو (HPM) نظام جدید جنگ، سیٹلائٹس اور کمانڈ نیٹ ورکس کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چینی میڈیا اور محققین کے مطابق یہ نظام غیر روایتی (Non-Kinetic) ہتھیاروں کی نئی نسل کی نمائندگی کرتا ہے، جو کسی ہدف کو تباہ کیے بغیر اس کے الیکٹرانک نظام کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔

TPG1000Cs کیا ہے؟

جنوبی چین مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق چین کے شہر شی آن میں واقع نارتھ ویسٹ انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں تیار کیا گیا یہ نظام TPG1000Cs کہلاتا ہے۔
یہ دنیا کا پہلا ایسا کمپیکٹ ڈرائیور بتایا جا رہا ہے جو:

  • 20 گیگا واٹ تک توانائی پیدا کر سکتا ہے
  • 60 سیکنڈ تک مسلسل کام کر سکتا ہے
  • ایک سیشن میں 3,000 ہائی انرجی پلسز خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

محققین کے مطابق اب تک اس نظام پر 200,000 سے زائد ٹیسٹ پلسز کیے جا چکے ہیں، جو اس کی کارکردگی اور استحکام کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سیٹلائٹس کے لیے کیوں خطرناک؟

چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک گیگا واٹ سے زیادہ طاقت رکھنے والی مائیکروویو لہریں لو ارتھ آربٹ (LEO) میں موجود سیٹلائٹس کے الیکٹرانک سسٹمز کو متاثر یا تباہ کر سکتی ہیں۔
اسی لیے اسے اسٹارلنک جیسے بڑے سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے لیے ایک اسٹریٹجک چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسپیس ایکس کی جانب سے اسٹارلنک سیٹلائٹس کو کم اونچائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ انہیں زمین سے فائر ہونے والے ڈائریکٹڈ انرجی ہتھیاروں کے لیے مزید حساس بنا سکتا ہے۔

ہتھیار کیسے کام کرتا ہے؟

ہائی پاور مائیکروویو ہتھیار:الیکٹرانکس کو جلائے بغیر مفلوج یا مستقل نقصان پہنچاتے ہیں

اینٹینا، کیبلز اور کھلے راستوں سے وولٹیج سرجز پیدا کرتے ہیں

ریڈیو فریکوئنسی انرجی کو ہدف کے اندر داخل کرتے ہیں

یہ طریقہ روایتی میزائل حملوں کے مقابلے میں زیادہ خفیہ، کم لاگت اور فوری اثر رکھتا ہے۔

تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نیا ہتھیار طاقتور مائیکروویو لہروں کے ذریعے سیٹلائٹس کے حساس الیکٹرانک نظام کو متاثر یا ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا کم سائز اور زیادہ طاقت ہے، جو اسے روایتی اینٹی سیٹلائٹ ہتھیاروں کے مقابلے میں زیادہ عملی اور مؤثر بنا سکتی ہے۔

اسٹارلنک پر ممکنہ اثرات

چینی محققین کا دعویٰ ہے کہ یہ پیش رفت خاص طور پر ایسے سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے جن میں ہزاروں سیٹلائٹس شامل ہوں، جیسے کہ امریکی کمپنی اسپیس ایکس کا اسٹارلنک سسٹم۔ اسٹارلنک اس وقت دنیا بھر میں انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے خلا میں سب سے بڑا سیٹلائٹ نیٹ ورک تصور کیا جاتا ہے اور اسے جدید عسکری رابطوں میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ہائی پاور مائیکروویو ہتھیار سیٹلائٹس کو جسمانی طور پر تباہ کیے بغیر ان کے مواصلاتی اور نیویگیشن سسٹمز کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے عارضی یا مستقل طور پر سروس معطل ہو سکتی ہے۔

عالمی تشویش اور خلائی سلامتی

اگرچہ چینی حکام نے اس ٹیکنالوجی کے عملی فوجی استعمال کے حوالے سے کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ خلائی سلامتی اور عالمی طاقتوں کے درمیان تکنیکی مقابلے میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ، چین اور دیگر ممالک خلا کو مستقبل کی اسٹریٹجک جنگ کا اہم میدان تصور کر رہے ہیں۔

تعینات کیا جا سکتا ہے، جو اسے چین کی سابقہ بھاری اور محدود صلاحیت والے نظاموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک بناتا ہے۔

عالمی اثرات

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت:مستقبل کی جنگوں میں سیٹلائٹس کو سب سے پہلا ہدف بنا سکتی ہے

تائیوان جیسے حساس تنازعات میں چین کو نئی اسٹریٹجک برتری دے سکتی ہے

امریکا اور اس کے اتحادیوں کی خلائی برتری کو چیلنج کر سکتی ہے

اگرچہ آزاد ذرائع سے اس ٹیکنالوجی کی عملی فوجی صلاحیت کی تصدیق ابھی باقی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ خلائی جنگ (Space Warfare) کے ایک نئے دور کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button