ایرانتازہ ترین

عالمی سائبر آپریشن کامیاب: 30 لاکھ ڈیوائسز متاثر کرنے والے بوٹ نیٹس ختم

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ، جرمنی اور کینیڈا نے ایک مشترکہ عالمی سائبر آپریشن کے دوران چار بڑے خطرناک بوٹ نیٹس (Botnets) کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جو دنیا بھر میں 30 لاکھ سے زائد ڈیوائسز کو متاثر کر چکے تھے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ان بوٹ نیٹس میں “Aisuru”، “KimWolf”، “JackSkid” اور “Mossad” شامل تھے، جنہیں بڑے پیمانے پر سائبر حملوں، خاص طور پر ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس (DDoS) حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان حملوں کے ذریعے ویب سائٹس اور سرورز کو اوورلوڈ کر کے بند کر دیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ ڈیوائسز میں زیادہ تر انٹرنیٹ سے منسلک عام آلات شامل تھے، جیسے:

  • وائی فائی روٹرز
  • ویب کیمز
  • ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈرز
  • دیگر اسمارٹ ڈیوائسز (IoT)

یہ ڈیوائسز ہیکرز کے کنٹرول میں آ کر ایک “بوٹ نیٹ ورک” کا حصہ بن جاتی ہیں، جس کے ذریعے بیک وقت ہزاروں سائبر حملے کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان نیٹ ورکس کے ذریعے دنیا بھر میں لاکھوں سائبر حملے کیے گئے، جن میں بعض امریکی محکمہ دفاع کے سسٹمز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ کچھ کیسز میں ہیکرز نے متاثرہ اداروں سے رقم بھی طلب کی، جو سائبر بلیک میلنگ کی ایک عام شکل ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد نہ صرف موجودہ خطرات کو ختم کرنا تھا بلکہ مستقبل میں بڑھتے ہوئے سائبر حملوں کو روکنا بھی ہے۔ ایک سینئر اہلکار کے مطابق، “یہ آپریشن اس عزم کا اظہار ہے کہ ہم اپنی دفاعی تنصیبات اور اہلکاروں کو جدید سائبر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔”

سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق بوٹ نیٹس آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں، کیونکہ:

  • یہ کمزور سکیورٹی والے آلات کو آسانی سے ہیک کر لیتے ہیں
  • صارفین کو اکثر پتہ بھی نہیں چلتا کہ ان کی ڈیوائس استعمال ہو رہی ہے
  • بڑے پیمانے پر حملے کر کے اہم انفراسٹرکچر کو متاثر کیا جا سکتا ہے

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے انٹرنیٹ سے منسلک آلات کی سکیورٹی بہتر بنائیں، جیسے کہ:

  • مضبوط پاس ورڈز کا استعمال
  • سافٹ ویئر اپڈیٹس باقاعدگی سے انسٹال کرنا
  • غیر ضروری ریموٹ ایکسس کو بند رکھنا

یہ کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر سائبر جنگ ایک نیا محاذ بن چکی ہے، جہاں ممالک نہ صرف روایتی بلکہ ڈیجیٹل خطرات سے بھی نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آنے والے وقت میں ایسے حملوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب دنیا تیزی سے اسمارٹ ڈیوائسز اور انٹرنیٹ پر انحصار بڑھا رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button