
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
لبنان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کو ایک بار پھر بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں موجودگی اور ممکنہ طویل قیام کے خدشات نے مقامی آبادی میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
سرحدی علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، جہاں اسرائیلی علاقوں میں سائرن کی آوازیں اور حزب اللہ کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج نے لبنان کے مختلف حصوں میں فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ زمینی سطح پر بھی محدود فوجی پیش قدمی جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں اور جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً دس لاکھ لبنانی شہری بے گھر ہو گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر جنوبی لبنان اور بیروت کے مضافاتی علاقوں کے رہائشی شامل ہیں، جو شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے ابھی تک مکمل زمینی حملہ شروع نہیں کیا، لیکن جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی اور مسلسل کارروائیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ صورتحال طویل تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں لبنان کے اندر سیاسی اور سماجی دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جو نہ صرف ایران کی حمایت کے ساتھ اسرائیل کے خلاف سرگرم ہے بلکہ لبنان کے اندر اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال لبنان کے لیے ایک سنگین داخلی چیلنج بن چکی ہے، جہاں ایک طرف بیرونی جنگ کا دباؤ ہے تو دوسری طرف لاکھوں بے گھر افراد اور معاشی مشکلات نے ملک کے نظام کو کمزور کر دیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ تنازع نہ صرف ایک سرحدی جھڑپ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے لبنان کے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، اور اگر حالات اسی طرح برقرار رہے تو خطہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔



