
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں امریکی فوج کو اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں متعدد جنگی طیارے، ڈرونز اور دیگر اہم عسکری اثاثے تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں۔ غیر ملکی رپورٹ کے مطابق صرف پہلے تین ہفتوں میں نقصان کا تخمینہ 1.4 سے 2.9 ارب ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے۔
دفاعی ذرائع کے مطابق یہ نقصانات زیادہ تر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہوئے، جنہوں نے خطے میں موجود امریکی اڈوں اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اب بھی موثر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کئی اہم فوجی طیارے متاثر ہوئے، جن میں ایف-15 ای جنگی طیارے، ایف-35 اسٹیلتھ جیٹ اور کے سی-135 ایئر ریفیولنگ طیارے شامل ہیں۔ ایک واقعے میں دو ریفیولنگ طیاروں کے درمیان فضا میں تصادم بھی ہوا جس میں چھ اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ دیگر طیارے مختلف حملوں میں نقصان کا شکار ہوئے۔
اسی طرح ایک درجن سے زائد MQ-9 ریپر ڈرونز بھی تباہ ہو گئے، جن میں کچھ میزائل حملوں میں مار گرائے گئے جبکہ بعض زمین پر ہی نشانہ بنے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، قطر اور اردن میں قائم امریکی اڈوں پر ریڈار سسٹمز اور طیاروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی بحریہ کے جدید طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پر بھی آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد اسے مرمت کے لیے یونان منتقل کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے واقعات امریکی فوجی آپریشنز پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

پینٹاگون نے ان نقصانات کے بعد تقریباً 200 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ تباہ یا متاثر ہونے والے فوجی سازوسامان کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور جاری ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس جنگ کے دوران اب تک کم از کم 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ تقریباً 300 زخمی ہو چکے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید جنگ میں ڈرونز اور میزائلوں کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف نقصان میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ جنگ کے اخراجات کو بھی کئی گنا بڑھا رہا ہے۔ اگر یہ تنازع طویل ہوتا ہے تو دونوں جانب مزید مالی اور عسکری نقصان کا خدشہ موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ صرف میدان تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات معیشت، دفاعی بجٹ اور عالمی سکیورٹی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔



