روسی اثر و رسوخ کو دھچکا: امریکا نے آرمینیا کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدہ کر لیا

(تازہ حالات رپورٹ)
امریکا اور آرمینیا کے درمیان سول جوہری معاہدہ، روسی اثر کم کرنے کی کوشش
یروان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکا اور آرمینیا نے سول جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کا ایک اہم معاہدہ طے کر لیا ہے، جسے خطے میں توانائی اور جغرافیائی سیاست کے تناظر میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے پر آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان اور امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے دارالحکومت یروان میں دستخط کیے۔

یہ معاہدہ، جسے ’’123 ایگریمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، امریکا کو آرمینیا کے سول جوہری شعبے میں ٹیکنالوجی اور آلات فراہم کرنے کی قانونی اجازت دیتا ہے۔ امریکی نائب صدر کے مطابق اس کے تحت ابتدائی مرحلے میں تقریباً 5 ارب ڈالر کی امریکی برآمدات ممکن ہوں گی، جبکہ طویل المدتی ایندھن اور دیکھ بھال کے معاہدوں کی مالیت مزید 4 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔ معاہدے کا مرکز جدید ’’سمال ماڈیولر ری ایکٹرز‘‘ ہیں، جنہیں نسبتاً محفوظ اور جدید ٹیکنالوجی سمجھا جاتا ہے۔

وزیر اعظم پاشینیان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ معاہدہ امریکا اور آرمینیا کے درمیان توانائی شراکت داری میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ان کے بقول آرمینیا توانائی کے شعبے میں شراکت داروں میں تنوع لانا چاہتا ہے تاکہ کسی ایک ملک پر انحصار کم ہو سکے۔ ماضی میں آرمینیا کا جوہری توانائی کا ڈھانچہ بڑی حد تک روس کے زیر اثر رہا ہے، خاص طور پر میتسامور کے پرانے روسی ساختہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے باعث۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے سے آرمینیا کو مغربی ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی اور یہ روس کے لیے ایک سفارتی و تزویراتی دھچکا ہو سکتا ہے، کیونکہ ماسکو جنوبی قفقاز کو طویل عرصے سے اپنا اثر و رسوخ کا علاقہ سمجھتا رہا ہے۔ روسی حکام نے تاہم کہا ہے کہ ان کی جانب سے پیش کردہ جوہری منصوبے مالی اور تکنیکی لحاظ سے اب بھی بہتر متبادل ہیں۔
دورے کے دوران امریکی نائب صدر نے ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پراسپرٹی (TRIPP) نامی مجوزہ راہداری منصوبے کو بھی آگے بڑھانے کی بات کی، جس کا مقصد آرمینیا کے راستے ایشیا اور یورپ کو جوڑنا ہے۔ یہ منصوبہ روس اور ایران کو بائی پاس کرتے ہوئے توانائی اور تجارت کے نئے راستے کھولنے کی امریکی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور آرمینیا کے درمیان یہ جوہری معاہدہ نہ صرف توانائی تعاون بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اور مستقبل کی سفارتی صف بندیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔



