
تہران/ماسکو ((تازہ حالات خصوصی رپورٹ): بین الاقوامی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے اور بحری قزاقی سے نمٹنے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کی بحری افواج نے بحیرہ عمان اور بحر ہند کے شمالی حصوں میں ایک انتہائی اہم اور کامیاب مشترکہ جنگی مشق کا انعقاد کیا ہے۔ اس مشق کے دوران اغوا شدہ تجارتی جہاز کو بازیاب کرانے کا عملی مظاہرہ کیا گیا، جس نے دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اور عسکری ہم آہنگی کو نمایاں کیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق، اس ہائی پروفائل آپریشن میں ایرانی بحریہ (IRIN)، پاسداران انقلاب کی بحریہ (IRGCN) اور روسی بحریہ کے سپیشل آپریشنز یونٹس نے حصہ لیا۔ عالمی سمندری تجارتی راستوں پر حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ان مشقوں کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
ہنگامی پیغام اور فوری ایکشن اس مشق کا آغاز اس فرضی منظر نامے سے ہوا جہاں ایک تجارتی جہاز کو سمندری قزاقوں نے ہائی جیک کر لیا۔ بندر عباس میں واقع میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر (MRCC) کو جہاز کی جانب سے ہنگامی پیغام (Distress Signal) موصول ہوتے ہی کثیر الجہتی آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔

فضا اور سمندر سے مشترکہ دھاوا آپریشن کے پہلے مرحلے میں ایرانی بحریہ کے SH3D اور پاسداران انقلاب کے Bell 412 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضا سے ہدف کی جاسوسی اور نشاندہی کی گئی۔ اس کے فوراً بعد، مشق کے فلیگ شپ (مرکزی جنگی جہاز) کے طور پر کام کرنے والے ایرانی ڈیسٹرائر ‘الوند’ نے دیگر جنگی کشتیوں کو ریسکیو کے لیے روانہ کیا۔
ایرانی اور روسی کمانڈوز نے انتہائی مہارت کے ساتھ سمندر اور فضا دونوں اطراف سے جہاز پر دھاوا بولا۔ مشترکہ ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فرضی قزاقوں کو غیر مؤثر کر دیا اور جہاز کا کنٹرول کامیابی سے سنبھال لیا۔
مشقوں کے دیگر اہم مراحل صرف جہاز کی بازیابی ہی نہیں، بلکہ ان جنگی مشقوں میں دیگر پیچیدہ حربی مہارتیں بھی آزمائی گئیں:

- فضائی عکس بندی (Photo Ex): فلیٹ کی نقل و حرکت کی انتہائی درست فضائی نگرانی اور ریکارڈنگ۔
- ٹیکٹیکل مینیوورز: مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کو بہتر بنانے کے لیے بحری بیڑوں کی پیچیدہ فارمیشنز بنائی گئیں۔
- جارحانہ پوزیشننگ: ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل اور دونوں ممالک کی افواج کے درمیان رابطے کو جانچنے کے لیے جارحانہ صف بندی کی گئی۔
میدان میں اتارے گئے جدید جنگی اثاثے ان مشقوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید ترین بحری اور فضائی جنگی مشینری کا استعمال کیا گیا، جن میں شامل ہیں:

ایرانی بحریہ: مشہور ڈیسٹرائر ‘الوند’، میزائل بوٹس ‘نیزہ’ اور ‘خنجر’، SH3D ہیلی کاپٹرز، لینڈنگ کرافٹس اور تیز رفتار اسالٹ کشتیاں۔
پاسداران انقلاب (IRGC): جنگی جہاز ‘شہید صیاد’، تندر کلاس کشتیاں، Bell 412 ہیلی کاپٹر اور ہائی سپیڈ اسالٹ بوٹس۔
روسی بحریہ: جدید ہیلی کاپٹر بردار کروزر ‘Stoiky’۔
ایرانی فضائیہ: فضا سے کور فراہم کرنے کے لیے دو F-4 فینٹم (F-4 Phantom) لڑاکا طیارے۔
اسٹریٹجک اہمیت (تجزیہ) عسکری حکام کا کہنا ہے کہ اس مشق کا بنیادی مقصد بین الاقوامی شپنگ لائنز کی اجتماعی سلامتی کو یقینی بنانا اور دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فیلڈ کوآرڈینیشن کو بڑھانا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، بحیرہ احمر اور بحر ہند میں حالیہ عالمی کشیدگی کے سائے میں، ایران اور روس کی یہ مشترکہ مشقیں مغربی ممالک کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ دونوں اتحادی خطے کی سمندری حدود میں اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کو مستحکم کر رہے ہیں۔



