
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے جنوبی اور دیگر لبنانی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ فوجی بیان کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں 72 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 22 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے ان اعداد و شمار کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے حزب اللہ کے ٹھکانوں اور اس کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے، کیونکہ حالیہ دنوں میں سرحدی علاقوں میں حزب اللہ کی جانب سے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں ایک میزائل حملے کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دیگر کو معمولی زخم آئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ بنت جبیل کے علاقے میں پیش آیا، جو حزب اللہ کا ایک اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی فوج گزشتہ کئی دنوں سے اس علاقے کا محاصرہ کیے ہوئے ہے، جہاں وقفے وقفے سے جھڑپیں اور راکٹ حملے جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حزب اللہ کے جنگجوؤں کی جانب سے مزاحمت کے باعث اسرائیلی افواج کو جانی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب لبنان کے جنوبی علاقوں، خصوصاً صور (ٹائر) اور اس کے نواحی دیہات میں فضائی حملوں کے بعد دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق کئی رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپیں ایک بڑے علاقائی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی محاذوں پر کشیدگی کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری طور پر سفارتی کوششیں نہ کی گئیں تو یہ تنازع وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ مختلف ممالک نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ موجودہ حالات میں ہر نئی پیش رفت خطے کے امن اور استحکام کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔



