
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
ترک دانشور، سیاستدان اور مصنف یاسین اکتائے نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں کو صرف ایک عسکری تنازع نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور نفسیاتی جنگ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس جنگ میں مذہبی حوالوں، تاریخی علامتوں اور عقیدتی بیانیے کو بھی اہم کردار دیا جا رہا ہے۔
یاسین اکتائے نے اپنے ایک حالیہ تجزیے میں لکھا کہ ایران پر حملوں کے بعد سامنے آنے والے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع کو صرف سکیورٹی یا دفاعی تناظر میں نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اس میں مذہبی اور تاریخی استعاروں کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض اسرائیلی سیاسی بیانات میں بائبل کے کردار “عمالقہ” (Amalekites) کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے ذریعے مخالف کو ایک مکمل دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کی زبان کسی تنازع کو صرف سیاسی یا عسکری دائرے میں نہیں رکھتی بلکہ اسے ایک مقدس یا وجودی جنگ میں تبدیل کر دیتی ہے۔ ایسے حالات میں مذاکرات اور سفارتی حل کی گنجائش کم ہو جاتی ہے کیونکہ جنگ کو عقیدے اور تاریخ کے تناظر میں دیکھا جانے لگتا ہے۔

جنگ کا دائرہ اور خطے پر اثرات
یاسین اکتائے کے مطابق بظاہر یہ جنگ عالمی سیاست کے روایتی اصولوں کے تحت چلتی دکھائی دیتی ہے، جس میں مختلف ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں اور کشیدگی کم کرنے کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں۔ تاہم ان کے بقول اس تنازع میں ایک ایسا نظریاتی پہلو بھی موجود ہے جسے بین الاقوامی تعلقات کے بہت سے تجزیوں میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران کے ردعمل اور خلیجی ممالک پر حملوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ کو وجودی یا نظریاتی سطح پر لے جایا جائے تو پھر کسی بھی فریق کے لیے پسپائی اختیار کرنا صرف عسکری شکست نہیں بلکہ علامتی شکست بھی بن جاتی ہے۔
عالمی سیاست اور اندرونی دباؤ
ترک تجزیہ کار کے مطابق اس جنگ کے پس منظر میں عالمی سیاست کے اندرونی عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ بعض اوقات داخلی سیاسی دباؤ کے دوران بیرونی بحران شدت اختیار کر لیتے ہیں تاکہ توجہ اندرونی مسائل سے ہٹ جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی تنازعات، جیسے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی، بھی عالمی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
مذاکرات کی ضرورت
یاسین اکتائے کے مطابق اگر جنگ کو مذہبی اور نظریاتی بیانیے سے جوڑ دیا جائے تو اس کا خاتمہ مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے بقول ایسے تنازعات کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں دوبارہ سیاسی اور سفارتی دائرے میں لایا جائے تاکہ مذاکرات اور ثالثی کے امکانات برقرار رہ سکیں۔



