تازہ ترینیورپ امریکا

امریکی انخلا کے بعد الشدادی کے قریب التنف بیس کا کنٹرول شامی فوج کے حوالے

(تازہ حالات رپورٹ )

شام کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد اسٹریٹجک اہمیت کی حامل التنف فوجی اڈے کا کنٹرول شامی فوج نے سنبھال لیا ہے۔ یہ اڈہ شام، عراق اور اردن کی سرحدوں کے سنگم پر واقع ہے اور گزشتہ تقریباً دس برسوں سے یہاں امریکی افواج تعینات تھیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے Syrian Arab News Agency (سانا) کے مطابق شامی فوجی یونٹس نے امریکی حکام کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بعد بیس کا انتظام سنبھالا۔ بیان میں کہا گیا کہ فوج نے اڈے اور اس کے اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے اور التنف کے صحرائی علاقے میں عراق اور اردن کی سرحدوں پر تعیناتی بڑھائی جا رہی ہے۔

امریکی افواج کہاں منتقل ہوئیں؟

ذرائع کے مطابق امریکی فوجی التنف سے نکل کر اردن کے اندر واقع "ٹاور 22” نامی اڈے پر منتقل ہو گئے ہیں، جو التنف سے تقریباً 22 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ماضی میں التنف بیس پر امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباً 200 بتائی جاتی رہی ہے، تاہم ٹاور 22 میں موجود اہلکاروں کی درست تعداد سے متعلق معلومات سامنے نہیں آئیں۔

None

امریکا نے 2017 اور 2018 کے دوران اس اڈے کو وسعت دی تھی اور یہاں نگرانی کے لیے جدید آلات، جن میں فضائی نگرانی کے غبارے بھی شامل تھے، نصب کیے گئے تھے۔ بعد میں ان میں سے بعض نظام ہٹا دیے گئے۔

التنف بیس کی اہمیت کیا ہے؟

واشنگٹن اس اڈے کو ایک اہم اسٹریٹجک پوائنٹ کے طور پر استعمال کرتا رہا، جہاں سے اردن کی سرحد سے لے کر دریائے فرات تک پھیلے وسیع علاقے میں سرگرمیوں پر نظر رکھی جاتی تھی۔ امریکی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ یہ بیس شدت پسند تنظیم Islamic State (داعش) اور ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے اہم تھی۔

دوسری جانب شامی حکومت اس اڈے کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیتی رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی انخلا اور شامی فوج کی واپسی خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقی شام میں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی قوتیں سرگرم رہی ہیں۔

آگے کیا؟

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں سرحدی محافظ دستے باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ ماہرین کے مطابق التنف بیس کا کنٹرول شامی فوج کو ملنا نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی طور پر بھی اہم پیش رفت ہے، جس کے اثرات شام، عراق اور اردن کے سرحدی علاقوں کی سکیورٹی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button