امریکا ایران کو مت چھوڑو – یا حملہ کرو یا سخت شرائط منواؤ – اسرائیل

بیجنگ / تل ابیب / واشنگٹن — مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیل نے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ تہران مبینہ طور پر مذاکرات میں "دھوکا دہی” سے کام لے سکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، تل ابیب نے امریکہ کے سامنے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے تین بنیادی شرائط رکھی ہیں، جن میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کا مکمل خاتمہ اور خطے میں ایران کے مبینہ حمایت یافتہ گروہوں کی مدد بند کرنا شامل ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو نے حال ہی میں وزیر دفاع یسرائیل کاٹس، خفیہ ادارے موساد کے سربراہ اور فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورت کی، جو چند روز قبل واشنگٹن کا دورہ کرکے واپس آئے ہیں۔
ادھر امریکی فوج کی سینٹرل کمان (یو ایس سینٹرل کمان) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز ڈیلبرٹ بلیک شیڈول وزٹ کے بعد جنوبی اسرائیلی بندرگاہ ایلات سے روانہ ہو گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، یہ دورہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بحری تعاون اور خطے میں سلامتی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، خصوصاً بحیرۂ احمر اور خلیجِ عقبہ میں۔
اسی تناظر میں اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی تو تہران کی جانب سے جوابی ردعمل میں اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم، وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران پر ممکنہ فضائی حملے فوری طور پر متوقع نہیں، کیونکہ پینٹاگون اس وقت خطے میں دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ امریکی فوج نے اضافی THAAD اور پیٹریاٹ دفاعی نظام مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیے ہیں۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ امریکی فوجی طاقت خطے میں موجود ہے، تاہم واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ اس بیان پر ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ کسی بھی حملے کی صورت میں خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ اگر نیت منصفانہ ہو تو کم وقت میں ایسا معاہدہ ممکن ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے، تاہم انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا کہ ناکام مذاکرات کی صورت میں ایران کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے تیار ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، آنے والے دن مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں سفارت کاری اور عسکری دباؤ بیک وقت جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کو اسرائیل ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ میں گھسیٹنا چاہتا ہے – جیسے ماضی میں عراق کے خلاف اسرائیل نے امریکا کو جنگ پر اکسایا



