
(تازہ حالات رپورٹ )
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی بیرونی دباؤ یا جبر کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ ہفتے کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی مشکلات، پابندیوں اور دباؤ کے باوجود حکومت قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا، “ہم ایران کے لیے آخری قطرۂ خون تک کوشش کریں گے۔ مشکلات اور کمیوں کے باوجود ہم اتحاد اور قومی ہم آہنگی کے ذریعے ان چیلنجز پر قابو پائیں گے اور قوم کی عزت کے راستے میں کسی رکاوٹ کو باقی نہیں رہنے دیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بعض طاقتیں اگر ایران کو جھکانے کی کوشش کریں گی تو بھی تہران اپنے موقف پر قائم رہے گا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ عمان کی ثالثی میں جنیوا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے۔ دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن نے خطے میں اپنے فوجی اثاثوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں طیارہ بردار بحری بیڑے اور بمبار طیارے شامل ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فضائی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔

اس تناظر میں ایران نے بھی حالیہ دنوں میں اچانک لائیو فائر فوجی مشقیں کیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ کسی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
سرحدوں پر مکمل نگرانی
ادھر ایرانی فوج کے زمینی دستوں کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے کہا ہے کہ ملک کی سرحدوں پر دشمن کی ہر نقل و حرکت پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے شمال مغربی سرحدی علاقے پیرانشہر میں 164ویں موبائل اسالٹ بریگیڈ کا دورہ کیا اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کی چوبیس گھنٹے چوکسی کسی بھی ممکنہ غلط اندازے یا مہم جوئی کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جدید آلات اور نئی حکمت عملیوں کے ساتھ افواج ہر قسم کے غیر متوازن خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں بیانات کی شدت اور فوجی سرگرمیوں میں اضافہ خطے میں طاقت کے توازن کو مزید حساس بنا رہا ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیک چینل رابطے اور ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں، جس سے یہ امکان برقرار ہے کہ کشیدگی مکمل تصادم میں تبدیل نہ ہو۔



