
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )— مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے اس بات پر بحث شروع کر دی ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان طویل جنگ چھڑ گئی تو اس کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ ایک امریکی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک محقق اور مبصر پروفیسر جیانگ نے دعویٰ کیا کہ ایران گزشتہ دو دہائیوں سے ایک ایسی حکمتِ عملی پر کام کر رہا ہے جو اسے طویل جنگ میں برتری دے سکتی ہے۔
پروگرام میں انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو روایتی جنگ کے بجائے غیر متوازن یا کم لاگت والی جنگی تکنیک پر مرکوز کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی بڑی طاقت اس کے کم قیمت ڈرونز اور میزائل نظام ہیں، جنہیں بڑی تعداد میں استعمال کر کے مہنگے فضائی دفاعی نظام کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔
ڈرون جنگ اور معاشی دباؤ
تجزیہ کاروں کے مطابق جدید جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ کم قیمت ڈرون اگر بڑی تعداد میں استعمال کیے جائیں تو وہ مہنگے دفاعی میزائلوں کو استعمال کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، جس سے دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کی آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈی اور علاقائی معیشتوں پر فوری طور پر پڑ سکتے ہیں۔
توانائی اور پانی کے نظام
کچھ دفاعی تجزیہ کاروں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جدید جنگ میں توانائی کے انفراسٹرکچر، گیس فیلڈز یا پانی کی فراہمی کے نظام جیسے اہم شہری ڈھانچوں کو نشانہ بنانا بھی ممکنہ خطرات میں شامل ہو سکتا ہے۔ خلیجی ممالک میں پانی کی بڑی مقدار سمندری پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس سے حاصل کی جاتی ہے، اس لیے ان تنصیبات کو اہم اسٹریٹجک اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔
خطے میں اتحادیوں کا کردار
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے علاقائی اتحادی اور مختلف گروہ بھی کسی بڑے تنازع میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منظرناموں کا انحصار کئی سیاسی، فوجی اور سفارتی عوامل پر ہوتا ہے اور کسی بھی ممکنہ جنگ کے نتائج کا درست اندازہ لگانا آسان نہیں۔
عالمی نظام پر ممکنہ اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کار اسے عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی مسابقت کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں، جہاں مستقبل میں عالمی نظام مزید کثیر قطبی شکل اختیار کر سکتا ہے۔



